سیالکوٹ لاہور موٹر وے کیس، متاثرہ خاتون کو شوہر نے آدھی رات کو موٹر وے پرسفر پہ کیوں مجبور کیا، سی سی پی او کا حیران کن انکشاف

نیوز اپڈ یٹ ! قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے لاہور سیالکوٹ موٹر وے واقعہ پر شدید تشویش کااظہا رکرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ نے پوری قوم کو شر مندہ کر دیا ہے ، اجلاس میں سی سی پی او عمر شیخ نے سیاستدانوں پر ڈکیٹ اور جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کا الزام لگادیا جس پر رکن اسمبلی محسن رانجھا اور سی سی پی او لاہور کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ۔

جمعرات کو اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی ریاض فتیانہ نے کی ۔اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری مواصلات، آئی جی موٹروے اور سی سی پی او عمر شیخ کے علاوہ سابق آئی جی و سابق آئی بی چیف ڈاکٹر شعیب سڈل اور سابق آئی جی افضل شگری بطور ماہرین اجلاس میں موجود تھے ۔کمیٹی اراکین نے لاہور سیالکوٹ موٹروے پر ہونے والے واقعہ اور اس پر ریمارکس نے پوری قوم کو شرمندہ کردیا۔ چیئر مین کمیٹی ریاض فتیانہ نے کہاکہ بتائیں پولیس انتظامات کے بغیر موٹروے کیوں کھولی۔چیئر مین قائمہ کمیٹی نے کہاکہ چھ ماہ پہلے موٹروے کھول دی گئی تو چھ ماہ پہلے پولیس کیوں نہ لگائی۔ آئی جی موٹر وے کلیم امام نے کہاکہ موٹروے پر جو ہوا انتہائی افسوس ناک ہے، جب بھی موٹروے یا برانچ موٹروے بنتی ہے تو پولیس مانگتے ہیں۔کلیم امام نے کہاکہ انیس لنک موٹروے روڈز ایسی ہیں جن کا کنٹرول تو ہمیں دے دیا گیا ہے مگر پولیس بھرتی کی اجازت نہیں دی گئی، بارہ سو کلومیٹر موٹروے روڈز ایسی ہیں جن کا کنٹرول تو ہمارے پاس ہے مگر پولیس کی بھرتی اب تک نہیں ہوسکی۔ کلیم امام نے کہاکہ وزارت خزانہ نے تاحال بھرتی کا معاملہ حل نہیں کیا۔سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے سیاستدانوں پر ڈکیٹ اور جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کا الزام لگادیا ،کمیٹی کے ممبر محسن رانجھا اور سی سی پی او لاہور کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ۔ سی سی پی او عمر شیخ نے کہاکہ شہباز بھنڈر محسن رانجھا کے ڈیرے سے برآمد ہوا۔ محسن رانجھا نے کہاکہ آپ غلط بات کررہے ہیں،

آپ خود ایڈیشنل آئی جی کی تعیناتی کی سفارش کے لیے میرے پاس آئے تھے، میں نے وزیرا علیٰ سے آپ کی سفارش کی اور آج آپ مجھ پر الزام لگاتے ہیں۔سی سی پی او عمر شیخ نے کہاکہ میں معافی طلب کرتا ہوں۔ نفیسہ شاہ نے کہاکہ پہلے موٹروے واقعہ کو تھانے کی حدود کا ایشو بنایا گیا، واقعہ پر سی سی پی او اور وزرا کے بیانات غیر ذمہ دارانہ تھے، پولیس میں جدید ترین اصلاحات کی ضرورت ہے، دس فیصد سیٹیں موٹروے پولیس میں رکھیں۔ ملک احسان اللہ ٹوانہ نے کہاکہ خوشاب میں 75سالہ خاتون کو 24 سالہ نوجوان نے گھر میں گھس نشانہ بنایا، اس خاتون کی ٹانگیں توڑ دیں پیٹ چاک کردیا۔ انہوں نے کہاکہ ہم کس عذاب سے گزر رہے ہیں، معاشرتی طورپر سوچیں چھوٹی چھوٹی بچیوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔ محسن شاہنواز رانجھا نے کہاکہ جس دن پولیس اور ہم ارکان سوچ لیں گے کہ یہ ہماری بہن بیٹی ہے تویہ نہیں ہوگا، آپ کی حکومت کے پاس تین ہیں کوئی جامع پالیسی لیکر آئیں۔ عطاء اللہ خان نے کہاکہ سانحہ بلدیہ ٹائون دیکھ لیں، زبیر چریا اور رحمان بھولا کو تو سزا ہوگئی، کہاں ہے حماد صدیقی اور باقی سب؟ جنہوں آگ لگوائی وہ بری الذمہ جنہوں نے لگائی پکڑے گئے، یہاں ایک بار پھر ثابت ہوا طاقتور اور کمزور کے لئے الگ الگ قوانین ہیں۔ عالیہ کامران نے کہاکہ کچھ سال پہلے پمز میں ایک معذور خاتون ملازم سے زیادتی ہوئی مگر کیس دبا دیا گیا۔ یہ دیکھنا پڑے گا کہ کہیں موٹروے واقعہ کی وجہ پولیس کی اندر کی اطلاع تو نہیں تھی،

اسلامی سزاوں کا اعلان کریں، عمران خان والی سزاوں کی ضرورت نہیں۔عالیہ کامران نے کہاکہ عابد ملہی کا ڈیٹا سب مل گیا مگر باقی ایسے ہی کیسز کا کیوں نہیں ملا۔ محمود بشیر ورک نے کہاکہ واقعہ تو پولیس نے نہیں لیبارٹری نے ٹریس کیا، پولیس یہ بتائے جب تک درست ملزم نہیں پکڑے گئے تھے مشکوک کی بھی نشاندہی میڈیا پر کیوں کی گئی، بڑے بڑے دعوؤں نے عابد ملہی کو بھاگنے کا موقع دے دیا، وزیر صاحب کہتے رہے کہ واقعہ موٹروے پر نہیں ہوا۔ اجلاس میں سی سی پی او لاہور نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خاتون اپنے میکے میں تھی کہ شوہر نے اس پر دبائو ڈالا کہ آپ گھر واپس آئیں، جس پرخاتون نے رات کے وقت ہی سفر کرنے کا فیصلہ کیا۔ خاتون کا جب پٹرول ختم ہوا تو خاتون کی شکایت پر ایف ڈبلیو او کے ساتھ کانفرنس کال کرائی گئی۔ ہیلپ لائن 130 پر کال کے 45 منٹ بعد تک کوئی مدد کو نہ پہنچا۔رات 2 بج کر47 منٹ پر کسی راہ گیر نے 15 پر خاتون کے ساتھ کسی کے ہاتھا پائی ہونے کی اطلاع دی۔اگر 15 پر بروقت کال کر دی جاتی تو واقعہ پیش نہ آتا

Leave a Comment