پاکستان کاوہ علاقہ جہاں منگول آبادہیں ملک کی دلکش خفیہ وادی جہاں خواتین کسی بھی وقت تنہاء چہل قدمی کرسکتی ہے

نیوز اپڈ یٹ ! کیا تعطیلات کیلئے جگہیں ختم ہوگئیں؟ اگر ہاں تو شمالی علاقہ جات کا یہ خوبصورت ترین کونہ ہوسکتا ہے کہ آپ کی نظروں میں اب تک نہ آیا ہو، یہ ہے شگر۔شگر گلگت بلتستان کا ایک مقام ہے جہاں آپ ریت کے ٹیلوں سے سجا صحرا بھی ڈھونڈ سکتےہیں، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ دریا اور جھاڑیاں بھی یہاں عام ہیں۔ سطح سمندر سے اٹھائیس سو میٹر بلندی پر واقع یہ وادی برف سے ڈھکی چوٹیوں کے درمیان گھری ہوئی ہے

اور اس کے ساتھ میدان، سبزہ زار، جنگلات، چیری، سیب، لوکاٹ اور شہتوت سے لدے درختوں سمیت ٹھنڈے تازہ پانی کے چشمے یہاں ہر کونے میں موجود ہیں۔ریکارڈز سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ علاقہ چھوٹا تبت کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، مگر آج یہاں بدھ ثقافت کی ایک کڑی بھی نظر نہیں آتی، یہاں تک کہ مقامی ملبوسات اور کھانوں میں بھی اس کا سراغ نہیں ملتا۔ یہاں لگ بھگ ستر ہزار افراد رہائش پذیر ہیں۔یہ وادی پاکستان کی خفیہ ترین وادی سمجھی جاسکتی ہے اور دیکھنے میں تو یہ ملک کا محفوظ ترین مقام بھی ہے، یعنی نہ طالبان ہیں نہ ڈرون، نہ ہی موبائل چھیننے والے اور نہ بھتہ خور۔ایسی جگہ جہاں خواتین دن کے کسی بھی وقت تنہا چہل قدمی کرسکتی ہیں اور بغیر کسی تکلیف یا ہراساں ہوئے بغیر گھر پہنچ سکتی ہیں۔یہاں لوگ بلتی زبان بولتے ہیں، جو تبتی زبان کی ایک قدیم قسم ہے۔شگر کوہ پیماؤں کی پسندیدہ متعدد پہاڑیوںاور ٹریکنگ روٹس کا درازہ ہے، یہاں موسم گرما میں جایا جائے تو پھولوں اور پھلوں کا نظارہ پہاڑیوں پر ہر جگہ نظر آتا ہے۔علاقے کی 96 فیصد آبادی کھیتی باڑی سے اپنا گزربسر کرتی ہے جب کہ 4 فیصد لوگ روزگار کے دیگر ذرائع سے وابستہ ہیں۔یہاں کی آبادی مختلف گروپس پر مشتمل ہے، جن میں تبت، منگولین، انڈو ایرانیان اور وسطی ایشیائی قابل ذکر ہیں جو ماضی میں یہاں آئے اور بس گئے۔جون، جولائی اور اگست گرم ترین مہینے ہوتے ہیں اور وہ ٹریکنگ و کیمپنگ کیلئے بہترین ہوتے ہیں۔

یہاں لگ بھگ ستر ہزار افراد مقیم ہیں جن میں اکثر شیعوں کی ہے۔برف میں ڈھکے پہاڑ، آپ یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہوسکتے ہیں کہ آخر پی آئی اے ائیر سفاری کیوں شروع نہیں کرتی، کسی اچھے دن کسی پرندے کی طرح کے ٹو سمیت ان چوٹیوں کو دیکھنا کیسا زبردست تجربہ ثابت ہوگا۔آٹھ ہزار میٹر بلند چار چوٹیاں یہاں موجود ہیں، جن میں دنیا کی دوسری بلندترین چوٹی کے ٹو بھی شامل ہے

Leave a Comment