کسی ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کی ملکہ ایک نیک دل عورت تھی،وہ غریب لوگوں سے بہت محبت کرتی تھی اور ان کی مدد کرتی رہتی تھی جس کی وجہ سے لوگ اسے دعائیں دیتے تھے

نیوز اپ ڈیٹ! بہت پرانے زمانے کا ذکر ہے کسی ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کی ملکہ ایک نیک دل عورت تھی۔ وہ غریب لوگوں سے بہت محبت کرتی تھی اور ان کی مدد کرتی رہتی تھی جس کی وجہ سے لوگ اسے دعائیں دیتے تھے۔ اللہ نے انھیں ایک نہایت خوبصورت اور ہونہار بیٹے سے بھی نوازا تھا۔ ان کے بیٹے کا نام شہزادہ ولید تھا۔ شہزادہ ولید ایک تمیز دار بچہ تھا اور اپنے ماں باپ کی ہر بات مانتا تھا

جس کی وجہ سے بادشاہ سلامت اور ملکہ اس سے بہت محبت کرتے تھے۔ ایک روز ملکہ شہزادہ ولید کے ساتھ محل کی بالکونی میں بیٹھی باہر کا نظارہ کر رہی تھی۔ محل سے کچھ دور بہت رونق تھی۔ لوگ شاہراہوں پر چل پھر رہے تھے۔ قریب کے بازار میں مردوں، عورتوں اور بچوں کا رش تھا اور وہ لوگ خریداری اور دوسرے کام کاجوں میں مصروف تھے۔ ملکہ اور شہزادہ ولید کو یہ سب کچھ دیکھ کر بہت اچھا لگ رہا تھا۔ اچانک شہزادہ ولید نے ملکہ کا بازو ہلا کر اسے ایک لڑکے کی طرف متوجہ کیا۔وہ لڑکا شہزادے کا ہی ہم عمر تھا اور اپنی ماں کے ساتھ جا رہا تھا۔ محل کے صدر دروازے پر وہ مچل گیا۔ چونکہ محل کا صدر دروازہ اس بالکونی کے بالکل نیچے تھا جس میں ملکہ اور شہزادہ بیٹھے ہوئے تھے، اس لیے انھیں ماں بیٹے کی باتوں کی آوازیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔ لڑکا اپنی ماں سے کہہ رہا تھا۔ “ماں۔ ماں۔ کل شہزادے کی سالگرہ ہے۔ وعدہ کریں کہ آپ مجھے بھی سالگرہ میں بھیجیں گی۔ اگر آپ نے وعدہ نہیں کیا تو میں گھر نہیں جاؤں گا۔” یہ کہہ کر وہ وہیں زمین پر بیٹھ گیا۔ اس کی ماں نے کہا۔” ہم غریب لوگ ہیں۔ شہزادے کی سالگرہ میں ہمیں کون بلائے گا۔ بیٹا ضد مت کرو اور گھر چلو۔ تمہارا باپ کام پر سے آتا ہوگا۔ مجھے کھانا پکانے میں دیر ہوجائے گی۔”لڑکے نے یہ سنا تو مایوسی سے ایک نظر محل پر ڈالی اور خاموشی سے ماں کے ساتھ چل پڑا۔ شہزادہ ولید نے کہا۔ “امی حضور۔ اس لڑکے کا کتنا دل چاہ رہا ہے کہ وہ میری سالگرہ میں شرکت کرے۔ اس کی امی کہہ رہی تھیں کہ غریب لوگوں کو شہزادے کی سالگرہ میں کون بلائے گا۔

آپ اس لڑکے کو کہہ دیں نا کہ وہ غریب ہے تو کیا ہوا، وہ سالگرہ میں ضرور آئے۔”ملکہ نے شہزادہ ولید کے سر پر محبت سے ہاتھ پھیرا اور بولی۔ “شہزادے ہمیں خوشی ہے کہ آپ اتنی اچھی اچھی باتیں سوچتے ہیں۔ امیر ہو یا غریب، سب کو اللہ نے بنایا ہے۔ اگر ہمارا بس چلے تو ہم آپ کی سالگرہ میں ملک بھر کے تمام بچوں بلائیں۔ مگر ہم ایسا کر نہیں سکتے۔” یہ کہہ کر ملکہ نے ایک غلام کو اشارہ کیا اور اس سے بولی۔ “تم جلدی سے اس عورت اور لڑکے کے پیچھے جاؤ اور خاموشی سے پتہ کر کے آؤ کہ وہ لوگ کہاں رہتے ہیں۔” ملکہ کا حکم پا کر غلام فوراً روانہ ہوگیا اور تھوڑی دیر بعد پوری معلومات لے کر آگیا۔ اگلے روز اس غریب عورت کے گھر پر شاہی بگھی آکر رکی… اس عورت کا شوہر کام پر گیا ہوا تھا۔ دو کنیزیں بگھی سے اتر کر گھر میں گئیں۔ ان میں سے ایک کنیز نے لڑکے کی ماں کو بتایا کہ ملکہ صاحبہ نے یہ کہلا کر بھیجا ہے کہ وہ عورت اور اس کا لڑکا شہزادے کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت کریں۔ کنیزیں اپنے ساتھ ایک بڑا سا تھال بھی لے کر آئی تھیں جس پر ایک ریشمی کپڑا پڑا ہوا تھا۔ وہ تھال انہوں نے اس غریب عورت کے حوالے کیا اور چلی گئیں۔ وہ عورت بہت خوش تھی۔ اس کے بیٹے کی خواہش پوری ہوگئی تھی۔ اس نے بیٹے کو بھی اس بارے میں بتایا تو وہ بہت خوش ہوا۔ تھال میں اس عورت کے بیٹے کے لیے زرق برق پوشاک تھی۔ سنہری شیروانی اور چاندی کے رنگ کا ریشمی پاجامہ۔ ساتھ میں کامدار ٹوپی اور جوتے بھی تھے۔ اس کے علاوہ مخمل کے کپڑے کی ایک تھیلی بھی تھی جس میں اشرفیاں تھیں۔ وہ عورت ملکہ کو دعائیں دینے لگی۔ وہ سمجھ گئی تھی کہ

کل شام ملکہ نے ان دونوں کی باتیں سن لی تھیں۔ اس کے بیٹے نے سب چیزیں دیکھ کر کہا۔ “ہماری ملکہ صاحبہ کتنی اچھی ہیں۔ وہ ہمارا کتنا خیال رکھتی ہیں۔ ابّا کام پر سے آئیں گے اور ان چیزوں کو دیکھیں گے تو وہ بھی خوش ہوں گے۔” اس کی ماں نے کہا۔ “ملکہ صاحبہ نے ہم غریبوں پر واقعی بہت مہربانی کی ہے۔” لڑکے نے کہا۔ “میں شہزدے کو تحفے میں دینے کے لیے کیا چیز لے جاؤں گا؟ وہ چیز ایسی ہونی چاہیے کہ سب اسے دیکھتے رہ جائیں۔ اب تو ہمارے پاس اشرفیاں بھی آگئی ہیں۔ ہم بازار جا کر کچھ لے آئیں۔ میرے خیال میں تو ہم سرکنڈوں کی گاڑی خرید لیں۔ اسے دیکھ کر شہزادے کو بہت خوشی ہوگی اور وہ اسے اپنے محل میں مزے سے چلاتا پھرے گا۔” “ہش۔ سرکنڈوں کی گاڑی بھی کوئی تحفے میں دینے والی چیز ہے۔ سب لوگ مذاق اڑائیں گے۔ تمہارے ابّا کام پر سے آجائیں تو ان سے پوچھ کر میں شہزادے کو تحفے میں وہ جادو کا آئینہ دوں گی جسے ایک پری نے خوش ہو کر انعام میں تمھارے ابّا کو دیا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب تم پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے اس پری کی مدد کی تھی۔ وہ بے چاری انجانے میں ایک کنویں میں گر گئی تھی اور بہت زخمی ہوگئی تھی۔ وہ اسے کنویں سے نکال کر گھر لے کر آئے اور ہم نے کئی روز تک اس کی خبر گیری کی تھی اور وہ بالکل ٹھیک ہوگئی تھی۔ اس آئینے کی خاص بات یہ ہے کہ اس کو دیکھ کر دل میں کسی بھی شخص کا نام لیا جائے تو وہ دنیا میں کہیں بھی ہو، اس آئینے میں نظر آنے لگے گا۔ پرستان میں ایسی بہت سی عجیب و غریب چیزیں ہوتی ہیں۔” “لیکن ماں شہزادہ اس آئینے کا کیا کرے گا؟

اس کے لیے تو ہمیں کوئی کھلونا لینا چاہیے۔” لڑکے نے کہا۔ “اس سے اچھا اور کون سا کھلونا ہوگا۔ ارے جب شہزادہ باغ میں کھیل رہا ہوگا اور بادشاہ سلامت دربار میں اور ملکہ صاحبہ اندر محل میں ہونگی تو وہ اس آئینے میں انھیں دیکھ سکیں گے۔ بچوں کے لیے تو یہ بہت ہی حیرت انگیز چیز ہے۔ ایسا آئینہ جس میں بجائے خود کی شکل نظر آنے کے دور بیٹھے لوگ دکھائی دیتے ہیں۔ شہزادہ اس آئینے میں اپنے ان رشتے داروں کو بھی دیکھ سکے گا جو دوسرے ملکوں میں رہتے ہیں۔” اس کی بات سن کر لڑکا مطمئین ہوگیا۔ جب اس عورت کا شوہر شام کو گھر آیا تو اس کی بیوی نے اسے پوری کہانی سنائی۔ اشرفیوں کی تھیلی اور اپنے بیٹے کے کپڑے دیکھ کر وہ بہت خوش ہوا اور بولا۔ “ٹھیک ہے شہزادے کی سالگرہ میں دینے کے لیے وہ جادو کا آئینہ اچھا تحفہ ہے۔” اگلے روز وہ عورت اپنے بیٹے کے ساتھ شہزادے کی سالگرہ میں شرکت کے لیے محل پہنچی۔ سالگرہ کا انتظام محل کے وسیع و عریض پائیں باغ میں کیا گیا تھا۔ مخملی غلافوں میں لپٹی کرسیوں پر مہمان بیٹھے ہوئے تھے۔ چونکہ اس عورت اور اس کے لڑکے کو ملکہ نے خاص طور سے مدعو کیا تھا اس لیے ایک کنیز نے ماں بیٹے کو بڑی عزت سے کرسیوں پر بٹھایا۔ لڑکے کی ماں نے وہاں ایک عجب منظر دیکھا۔ ہر طرف ایک افرا تفری اور ہنگامہ بپا تھا۔ غلام اور کنیزیں ادھر ادھر بھاگتے پھر رہے تھے۔ سب کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ شاہی سپاہی بھی محل میں اِدھر اُدھر کچھ دیکھتے پھر رہے تھے۔ سالگرہ میں شرکت کے لیے آئے ہوئے مہمان بھی پریشان نظر آرہے تھے۔ اس منظر کو دیکھ کر اس عورت نے کنیز سے اس بارے میں دریافت کیا۔

“سالگرہ کی تقریب کا وقت سر پر ہے مگر شہزادے صاحب جانے کہاں چلے گئے ہیں۔ مل ہی نہیں رہے۔ یہ سب لوگ انھیں ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔” اس کنیز نے جلدی سے بتایا اور خود بھی شہزادے کو تلاش کرنے کے لیے چلی گئی۔ بادشاہ سلامت بھی وہاں موجود تھے۔ کافی تلاش کے باوجود بھی جب شہزادہ نہ ملا تو انہوں نے شاہی داروغہ کو طلب کرلیا اور بولے۔ ” داروغہ۔ ملک کا چپہ چپہ چھان مارو اور رات ہونے تک ہمارے شہزادے کو ڈھونڈ کر ہمارے پاس لاؤ۔” داروغہ سر کھجاتے ہوئے بادشاہ سلامت کو دیکھنے لگا۔ اسے تو علم ہی نہیں تھا کہ شہزادہ کہاں چلا گیا تھا۔ اتنے کم وقت میں وہ اسے کیسے ڈھونڈتا۔ اس کے اس طرح دیکھنے سے بادشاہ سلامت سمجھ گئے کہ وہ یہ کام نہیں کرسکے گا۔ وہ پریشانی کے عالم میں ٹہلتے ٹہلتے کچھ سوچنے لگے۔ شہزادے کی گم شدگی سے ملکہ کا غم کے مارے برا حال تھا۔ اس کے آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ اچانک اس عورت کو کچھ خیال آیا۔ اس نے اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے جادو کا آئینہ نکال کر ایک نظر اس پر ڈالی اور پھر ملکہ کے پاس آ کر بولی۔ “ملکہ صاحبہ آپ فکر نہ کریں۔ مجھے پتہ چل گیا ہے کہ شہزادے صاحب کہاں ہیں۔ آپ بادشاہ سلامت کو لے کر میرے ساتھ اکیلے میں آئیں پھر میں آپ کو بھی دکھادوں گی۔ سب کے سامنے اس بات کا تذکرہ مناسب نہ ہوگا۔” اس غریب عورت کی بات سن کر ملکہ خوش ہوگئی۔ اس نے یہ بات بادشاہ سلامت کو بتائی اور پھر وہ تینوں ایک کمرے میں آئے۔ اس عورت نے ریشم کے خوب صورت بٹوے سے وہ جادو کا آئینہ نکالا اور بادشاہ سلامت سے بولی۔ “بادشاہ سلامت یہ جادو کا آئینہ ہے۔ بہت پہلے اسے ایک پری نے میرے شوہر کو دیا تھا۔

میرا بیٹا اسے شہزادے کو تحفے میں دینے کے لیے لایا ہے۔ آپ شہزادے صاحب کا دل میں خیال لا کر اس آئینے پر نظر ڈالیے وہ آپ کو نظر آجائیں گے۔ میں انھیں دیکھ چکی ہوں۔ انھیں کسی نے قید کیا ہوا ہے۔” بادشاہ سلامت نے جھپٹ کر آئینہ اس کے ہاتھ سے لے لیا۔ جیسے ہی انہوں نے آئینے پر نظر ڈالی انھیں اپنا شہزادہ نظر آگیا۔ اس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے اور آنکھوں پر پٹی بھی بندھی ہوئی تھی۔ اس کے پاس دو آدمی کھڑے ہوئے تھے۔ بادشاہ سلامت دونوں کو پہچان گئے۔ ان میں سے ایک ان کا وزیر تھا جس کا نام جان عالم تھا۔ دوسرا شخص شاہی غلام تھا۔ محل میں یہ غلام ہی شہزادے کی دیکھ بھال اور اس کی خدمت پر مامور تھا۔ بادشاہ سلامت جان عالم وزیر پر بہت اعتماد کرتے تھے۔ مگر پچھلے دنوں انہوں نے ایک دوسرے وزیر کو ترقی دے کر اپنا وزیرِ خاص بنا لیا تھا۔ جان عالم اس بات سے جل گیا تھا کیونکہ اسے امید تھی کہ وزیرِ خاص اسے بنایا جائے گا۔ اس کی یہ امید پوری نہ ہوئی تو اس نے بادشاہ سے بدلہ لینے کے لیے شاہی غلام کی مدد سے شہزادے کو محل سے اغوا کر کے قید کر لیا تھا۔ ملکہ اپنے شہزادے کو اس حال میں دیکھ کر صدمے سے نڈھال ہوگئی مگر بادشاہ سلامت سخت غصے میں آگئے۔ انہوں نے اسی وقت باہر نکل کر داروغہ کو حکم دیا کہ اس نمک حرام وزیر اور غلام کو فوراً گرفتار کر کے ان کے سامنے پیش کیا جائے۔ بادشاہ سلامت کا حکم سنتے ہی داروغہ بہت سے سپاہیوں کے ساتھ فوراً وزیر کے گھر کی جانب دوڑا مگر وزیر وہاں نہیں تھا کیوں کہ اس کے گھر کے دروازے پر تالا لگا ہوا تھا۔ داروغہ سمجھ گیا کہ وہ اس وقت وہاں ہوگا جہاں اس نے شہزادے کو چھپا رکھا ہے۔

وہ سپاہیوں کے ساتھ چھپ کر اس کی آمد کا انتظار کرنے لگا۔ زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ ایک گھڑ سوار وہاں آکر رکا۔ وہ وزیر جان عالم ہی تھا۔ جیسے ہی وہ گھوڑے سے اترا اسے سپاہیوں نے گرفتار کرلیا۔ داروغہ نے اپنی تلوار نکال کر اس کے سینے پر رکھ دی اور آنکھیں نکال کر نہایت غصے سے دھاڑ کر بولا۔ “نمک حرام جلد بتا۔ شہزادے صاحب کو تو نے کہاں قید کیا ہوا ہے؟”۔ وزیر عالم نے داروغہ کو اتنے غصے میں دیکھا تو مارے ڈر کے تھر تھر کانپنے لگا۔ اس نے بتا یا کہ شہزادے کو گھنے جنگلوں میں ایک جھونپڑی میں قید کیا گیا ہے۔ جلد ہی وہ سب لوگ جنگل میں پہنچ گئے۔ جنگل میں ہر طرف اندھیرا اور سناٹا تھا۔ جس جھونپڑی میں شہزادے کو رکھا گیا تھا اس میں ایک چراغ جل رہا تھا اور انھیں شہزادے کی سسکیاں سنائی دے رہی تھیں۔ اس کی آنکھوں پر پٹی تھی اور ہاتھ پاؤں بھی بندھے ہوئے تھے۔ داروغہ نے جلدی سے اسے آزاد کیا اور اسے تسلی دی۔ وہاں پر شہزادے کی نگرانی کرنے والے غلام کو بھی سپاہیوں نے گرفتار کر لیا… سزا کے خوف سے غلام رونے لگا۔ اس نے روتے ہوئے بتایا کہ یہ منصوبہ جان عالم وزیر نے بنایا تھا اور اسے محل سے شہزادے کو اغوا کرنے کے لیے بہت ساری اشرفیاں دی تھیں۔ غلام نے یہ بھی بتایا کہ وزیر کو اس بات کا بہت دکھ تھا کہ بادشاہ سلامت نے اس کے بجائے کسی اور کو اپنا وزیر خاص بنا لیا ہے۔ شہزادے کو قید کر کے وہ بادشاہ سے انتقام لینا چاہتا تھا۔ ان دونوں مجرموں کو سپاہیوں نے زنجیروں میں جکڑ دیا اور قید خانے میں بند کرنے کے لیے اپنے ساتھ لے گئے۔ وزیر اور غلام کو ان کے کیے کی سزا مل گئی تھی۔ اس کے بعد

داروغہ شہزادے کو لے کر محل پہنچا اور بادشاہ سلامت کو تمام کہانی سنائی۔ شہزادے ولید کو دیکھ کر بادشاہ سلامت نے اطمینان کا سانس لیا۔ ملکہ تو خوشی سے نہال ہوگئی تھی۔ اگلے دن اس خوشی میں پورے ملک میں جشن منایا گیا۔ محل میں بھی ایک تقریب تھی، جس میں سب امیر غریب شریک تھے۔ اس عورت کو ملکہ نے خاص طور سے اس تقریب میں بلایا تھا۔ وہ آئی تو ملکہ نے کہا۔ “نیک دل خاتون۔ اللہ نے ہم پر بڑا کرم کیا کہ ہمارا شہزادہ ہمیں بہ حفاظت مل گیا۔ اس کا وسیلہ تم بنی تھیں۔ اگر تم وہ جادو کا آئینہ نہ دیتیں تو ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا کہ ہمارا شہزادہ کہاں ہے۔” وہ عورت بولی۔ “ملکہ عالیہ۔آپ بہت نیک اور رحم دل ہیں۔ آپ نے مجھ غریب کے بیٹے کی خواہش پوری کی تھی اور اسے شہزادے کی سالگرہ میں بلایا جس کی وجہ سے میرا بیٹا بہت خوش ہو گیا تھا۔ اللہ نے آپ کو اس نیکی کا صلہ دیا۔ نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ یہ جادو کا آئینہ میں شہزادے صاحب کے حوالے کرتی ہوں۔ وہ اسے دیکھ کر بہت خوش ہونگے۔” اس کی بات ٹھیک نکلی۔ شہزادہ ولید اس عجیب و غریب آئینے کو پا کر بہت خوش تھا۔ وہ اپنے دل میں جس شخص کے متعلق بھی سوچتا، وہ اسے آئینے میں نظر آنے لگتا تھا۔ وہ اس آئینے کو ہر وقت اپنے پاس رکھتا تھا۔ شہزادے کے مل جانے سے بادشاہ سلامت بھی بہت خوش تھے۔ انہوں نے اس عورت کو بہت سا انعام و اکرام دیا جس سے اس کے دن پھر گئے اور وہ اپنے شوہر اور بیٹے کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگی

Leave a Comment