بڑا ہپی قیمتی نسخہ، نزلہ زکام نہیں بلکہ ناک میں وکس لگانے سے کیا فائدہ ملتا ہے ؟ مردوں کیلئے خاص اور شاندار نسخہ

نیوز اپ ڈیٹ! وکس بام ہر گھر کی ضرورت ہے، کیونکہ سب ہی نزلے زکام، سر درد وغیرہ میں بام کو لازمی لگاتے ہیں کہ اس سے انھیں ٹھنڈک بھی ملتی ہے اور سکون بھی آجاتا ہے . خواتین اکثر بام کا استعمال زیادہ ہی کرتی نظر آتی ہیں، اس بات میں تو کوئی شک نہیں ہے . * آج ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ آپ کس طرح وکس بام کی مدد سے اپنے گھر والوں کو جراثیموں سے بچا سکتی ہیں:

* ناک پر وکس لگانا صرف نزلے زکام یا بند ناک کھولنے کے لئے ہی مفید نہیں ہے، بلکہ اگر آپ چاہتی ہیں کہ جراثیم سے بچا جاسکے تو تھوڑا سا وکس اپنیاور بچوں کی ناک پر لگا لیں، اس کے ذریعے آپ کے جسم کے تمام جراثیم بھی بھاگ جائیں گے اور آپ ان سے محفوظ بھی بن جائیں گیں.* وکس میں اینٹی بیکٹریل اور اینٹی بائیوٹکس خصوصیات اس کو جراثیم کش بناتی ہے، یہی وجہ ہے کہ جب یہ ہماری ناک میں داخل ہوتی ہے تو اندر جاکر سانس کی نالی اور نتھنوں کو بھی صاف کرکے کھولتی ہے، اور اسی دوران اگر کوئی جراثیم ناک میں یا منہ میں موجود ہوتا ہے تو یہ اس کو بھی مارتی ہے اور بلغم، تھوک یا بیت الخلاء کے ذریعے سے خارج کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے.* آج کل کیونکہ جراثیموں سے دور رہنا بہت ضروری ہوگیا ہے، وہیں آپ بام کو روزانہ صبح اور شام میں ناکجرمنی میں کورونا وائرس کی مریضوں کے لیے انتہائی نگہداشت کی سہولیات کی شدید کمی پیدا ہو سکتی ہے. جرمن طبی تنظیموں نے ایسے رہنما اصول طے کر لیے ہیں جن کے تحت مجبوری میں مریضوں کی زندگی اور موت کے فیصلے کیے جا سکیں گے.جرمنی ان پانچ ممالک میں سے ایک ہے، جہاں کورونا وائرس کی مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے. مقامی وقت کے مطابق جمعہ ستائیس مارچ کی سہ پہر تک یورپی یونین کے اس سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں کورونا وائرس کی وجہ سے لگنے والی بیماری کووِڈ انیس کے شکار مریضوں کی کل تعداد سینتالیس ہزار سے متجاوز اور ہلاکتوں کی تعداد دو سو اکیاسی ہو چکی تھی.دیگر ممالک کی طرح جرمنی میں بھی طبی شعبے کی کارکردگی کا احاطہ کرنے والے

ایسے قوانین پہلے ہی سے نافذ ہیں کہ ڈاکٹر مریضوں کا علاج کرتے ہوئے ان کی زندگی اور موت سے متعلق فیصلے کن بنیادوں پر کرتے ہیں.اب لیکن کووِڈ انیس کے وبائی پھیلاؤ کے باعث جرمن ڈاکٹروں کی متعدد تنظیموں نے ان ضوابط اور پیشہ وارانہ اخلاقیات کا نئے سرے سے جائزہ لیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ کورونا وائرس کے انتہائی حد تک بیمار مریضوں کا علاج کرتے ہوئے ترجیحات کا تعین کیسے کیا جائے گا.ترجیحات کا تعین مختلف ہسپتالوں کے ایمرجنسی شعبوں میں کام کرنے والے جرمن ڈاکٹروں اور انتہائی نگہداشت کے ماہر معالجین کی ملکی تنظیم ڈی آئی وی آئی کے صدر اُوے ژانسنز نے برلن میں بتایا، ”ملکی ڈاکٹروں کی تمام تنظیموں نے اپنے اخلاقی ضابطوں کا ایک ایسا نیا مجموعہ جاری کر دیا ہے، جو کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے دوران یہ طے کرنے میں مدد دے گا کہ کن حالات میں کس مریض کی جان بچانے کی کوشش کی جانا چاہیے اور کسے بہت مجبوری میں لیکن اس کے حال پر ہی چھوڑ دیا جانا چاہیے.‘‘ڈاکٹر اُوے ژانسنز نے صحافیوں کو بتایا، ”ہم کسی بھی ممکنہ صورت حال کے لیے تیار رہنا چاہتے ہیں. کوئی بھی ڈاکٹر یہ نہیں چاہتا کہ اسے ایسی کسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے. لیکن اگر ایمرجنسی میں ہمیں ایسا کرنا پڑ گیا تو ترجیحات بہرحال واضح ہونا چاہییں.‘‘ترجیح کس کو دی جائے گی؟ڈی آئی وی آئی کے سربراہ ڈاکٹر اُوے ژانسنز کے مطابق یہ فیصلہ کہ کس مریض کا علاج ترجیحاﹰ کیا جانا چاہیے، کورونا وائرس کی وبا کے دوران بھی منصفانہ اور غیر جانبدارانہ بنیادوں پر کیا جائے گا. انہوں نے کہا، ”اس عمل کی شفافیت اور اس دوران عوام کا اعتماد

حاصل رہنا دونوں ہی کلیدی اہمیت کے حامل عوامل ہیں.‘‘جرمن ڈاکٹروں کی سات ملکی تنظیموں کی تیار کردہ ان متفقہ سفارشات کے مطابق انتہائی نگہداشت کے شعبوں میں آئندہ بھی کسی مریض کے علاج میں یہ بات مدنظر رکھی جائے گی کہ اس کے بچ جانے کے امکانات کتنے زیادہ ہیں.ڈاکٹر ژانسنز کے مطابق، ”کسی بھی ہنگامی صورت حال میں یہ فیصلہ مختلف شعبوں کے تین غیر جانبدار ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کیا کرے گی کہ کسی مریض کے بچنے کے امکانات کتنے زیادہ ہیں. اس فیصلے میں مریض کی بیماری کی شدت، اس کو لاحق دیگر امراض اور خود مریض کی اپنی خواہش بھی پیش نظر رکھے جائیں گے.‘‘بہت بڑی جذباتی اور اخلاقی ذمے داری‘ان سفارشات میں تاہم یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے، ”یہ بات کسی بھی شبے سے بالاتر ہے کہ کسی مریض کی زندگی یا موت کے کسی بھی طبی فیصلے میں اس مریض کی عمر یا اس کی سماجی حیثیت کا قطعاﹰ کوئی عمل دخل نہیں ہو گا.‘‘اس فیصلے کی دستاویز کے مطابق، ”یہ بات بھی طے شدہ ہے کہ ایسی کسی بھی صورت حال میں کسی ایسے مریض کو طبی ترجیح نہیں دی جائے گی، جس کی جسمانی موت کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہو.‘‘ اس دستاویز میں یہ بھی زور دے کر کہا گیا ہے کہ کسی بھی مریض کی زندگی یا موت کا ایسا کوئی بھی ممکنہ فیصلہ اس کا علاج کرنے والی طبی ٹیم کے لیے ‘بہت بڑی جذباتی اور اخلاقی ذمے داری سے جڑا‘ ہوا ہوتا ہے.

Leave a Comment