کچھ شرم ہوتی ہے کوئی حیاء ہوتی ہے نیوز اینکر کے باریک لباس نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیاتصاویر دیکھنے کیلئے لنک پر کلک کریں

نیوز اپ ڈیٹ! ایک نجی ٹی وی چینل کی نیوز اینکر کے باریک لباس نے پاکستانی سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا ہے، گزشتہ روز سے سوشل میڈیا پر ایک نجی ٹی وی چینل کی نیوز اینکر کی تصویر وائرل ہے، نجی ٹی وی کی نیوز اینکر نے خبر نامہ پڑھتے ہوئے ہلکے گلابی رنگ کا نہایت ہی بے باک لباس پہن رکھا ہے، اینکر کی قمیض اتنی باریک تھی کہ ان کے نیچے پہنے گئے مخصوص

کپڑے بھی نظر آ رہے تھے،جیسے ہی منظر لوگوں نے دیکھا تو سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہو گیا اور لوگوں نے غم و غصے کے اظہار کے ساتھ مشورے دینے کا بھی آغاز کر دیا .خاتون اینکر کی تصویر شیئر کرتے ہوئے شیراز نامی صارف نے کہا کہ جب ٹی وی چینلز پر اس طرح کے کپڑوں میں پروگرام ہوں گے تو پھر افسوسناک واقعات میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا، عمران خان خدارا میڈیا کی بے حیائی پر ہاتھ ڈالیں .شیراز نامی صارف کے اس ٹوئٹ کے بعد تو جیسے تانتا ہی بندھ گیا، سوشل میڈیا پر تنقید کی بھرمار ہو گئی اور کہا گیا ہے کہ اس وجہ سے پاکستان میں آئے روز افسوسناک واقعات ہو رہے ہیں.تنقید کے ساتھ ساتھ کئی صارف اینکر کے حق میں بھی کھڑے ہو گئے، ایک صارف عاقب خان نے کہا کہ باریک لباس پہن لینا کوئی بری بات نہیں ہے، اس کے علاوہ عافیہ اسلم نامی خاتون نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ مدرسوں میں بچے کس قسم کے کپڑے پہنتے ہیں کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے؟ عباس نظیر نامی صارف نے کہا کہ خدا ان گندی نظروں والوں کو ہدایت دے کہ اپنے کام سے کام رکھیں. لائبہ نامی صارف نے کہا کہ ان کپڑوں میں کیا غلط ہے؟ اپنی سوچ کو تبدیل کریں. موسیٰ وڑائچ نامی صارف نے کہا کہ میرے نزدیک یہ لباس اخلاقیات کے مخالف ہے، میں اس اینکر اور ٹی وی چینل کے خلاف اپنی شکایت درج کروا رہاہوں، ایسا کچھ بھی ملکی ٹی وی چینلز پر نہیں دکھایا جانا چاہیے. ایک اور صارف اقبال بلوچ نے مزاحیہ انداز اپناتے ہوئے اس معاملے پر وزیراعظم کو ہی تنقید کا نشانہ بنا دیا اور کہا کہ کوئی بات نہیں باجی

صاحبہ نشئی کی حکومت ہے. شاہد اقبال نامی صارف نے کہا کہ یہ معاشرے کی گھٹن زدہ پرورش کا مسئلہ ہے، اگر یہ ہی مسئلہ ہوتا تو مغر بی ممالک میں پاکستانی اور سعودی عرب سے زیادہ افسوسناک واقعات ہوتے مگر حقائق الٹ ہیں، پاکستان روزانہ 10، سعودی عرب 12 اور پورے یورپ میں 6 افسوسناک کیسز رپورٹ ہوتے ہیں

12

Leave a Comment