نبی کریمﷺ کی حرمت پرنہ کوئی آنچ آئے گی نہ آنے دیں گے فرانس میں گستاخانہ خاکے

نیوز اپ ڈیٹ! فرانس میں کریک ڈاؤن آپریشن عروج پر ہے۔مسلمانوں کے خلاف ان کا تعصب کھل کر بول رہا ہے کہ انہوں نے ایک طرف نعوذ باللہ حضور نبی پاکﷺ کے خاکوں کا بینر ایک عمارت کے فرنٹ پر لگا دیا ہے اور دوسری طرف مساجد اور مدارس بند کیے جانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔فرانس کے اس قسم کے اقدامات پر دنیا بھر کے مسلم ممالک میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ گزشتہ روز

ترکی کے صدر طیب اردوگان نے فرانس کے سربراہ کو دماغی مریض قرار دے دیا۔اس کے علاوہ سوشل میڈیا سائٹ پر بھی نوجوانوں کی طرف سے بھرپور ردعمل دیکھنے جا رہا ہے۔بائیکاٹ فرانس کی مہم عروج پر ہے اور اس مہم کے نتیجے میں کویت پہلا ایسا ملک ہے جس نے فرانس کی پراڈکٹس کو اپنے سپراسٹور سے اٹھوانا شروع کر دیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں کو شائع کرنے کے خلاف مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ مہم کے سلسلے میں کویت کے شاپنگ مالز سے فرانسیسی اشیاءکا کاؤنٹر خالی کردیا گیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر کویت سے ایسی تصاویر شیئر کی گئی ہیں جن میں 50 بڑے شاپنگ مالز کے ان کاؤنٹرز کو خالی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جو اس سے قبل فرانسیسی اشیاءسے بھرے ہوئے تھے۔ تصاویر شیئر کرنے والوں نے لکھا کہ فرانسیسی اشیاءکا بائیکاٹ گستاخانہ خاکوں کی وجہ سے کیا جا رہا ہے۔اس وقت سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’بائیکاٹ فرنچ پراڈکٹس‘ اور ’بائیکاٹ فرانس‘ نامی ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ ان ٹرینڈ کے ساتھ جو تصاویر شیئر کی گئی ہیں ان میں فرانسیسی اشیاء کے خالی کاؤنٹرز کو دیکھا جا سکتا ہے۔ بائیکاٹ مہم کا آغاز فرانس میں میگزین چارلی ایبدو میں پیغمبر اسلامﷺ کے خاکوں کی اشاعت اور ایک مسجد کو جبراً بند کرنےکے خلاف شروع کی گئی ہے۔اسلامی ممالک کی عالمی تنظیم ’او آئی سی‘ نے بھی فرانس کی بعض عمارتوں پر پیغمبر اسلام کے خاکوں کو لٹکانے کی مذمت کرتے ہوئے بیان میں کہا تھا کہ

مسلمانوں کے جذبات پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بار بار حملہ کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ متنازع جریدے چارلی ایبدو کے پرانے دفتر کے باہر راہگیروں پر چاقو سے حملہ کیا گیا تھا جب کہ فرانس میں ہی میں ایک اسکول میں پیغمبر اسلامﷺ کے خاکے دکھانے والے استاد کو قتل کردیا گیا تھا جس کے بعد کئی علاقوں میں کریک ڈاؤن آپریشن کیا جارہا ہے۔

Leave a Comment