منہ کے چھالےیا کسی زخم سے پریشان ہیں تو دن میں 2 بار اس پانی سے غرارے کرلیں

اردو نیوز! آج ہم آپکو منہ کہ چھالوں سے نجات حاصل کرنے کا آسان اور گھریلو ٹوٹکہ بتائیں گے۔منہ کے چھالے عام طور پرجسم اور معدہ میں گرمی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔جب منہ کے چھالے زیادہ ہوجائیں تو کھانا کھانا محا ل ہوجاتا ہے۔آج ہم آپکو منہ کے چھالے ختم کرنے کے لئے ایک بہترین علاج بتارہے ہیں۔منہ کے چھالے دور کرنے کے لئے یہ ایک آزمودہ نسخہ ہے۔اس کی وجہ سے نہ صرف اس تکلیف دہ بیماری سے نجات ملے گی بلکہ

انشا ءاللہ یہ بیماری آئندہ کبھی نہیں ہوگی۔اس نسخے کو بنانے کے لئے آپ کوجو چیزیں چاہئےں وہ یہ ہیں1۔مہندی کے پتے: مٹھی بھر 1۔پانی کے گلاس: 4عددطریقہ استعمال:پانی کے4گلاس میں مہند ی کے پتے خوب ابال لیں۔جب پانی کا رنگ لال ہوجائے تو پانی کو چھان کر کسی بوتل میں محفوظ کرلیں۔دن میں دو بار اس پانی سے غرارے کریں۔منہ کے چھالے انشا ءاللہ بالکل ٹھیک ہوجائیں گےہر گھر کی عام بیماری کا واحد علاج : گرم پانی سے نہانے کے چند فوائد جان کر آپ اسکو معمول بنا لیں گے اگر بات نہانے کی ہو رہی ہو تو انسان گرمیوں میں ٹھنڈے اور سردیوں میں گرم پانی سے نہانا پسند کرتا ہےلیکن اس حوالے سے کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق نیم گر پانی سے نہانے کے بے شمار فوائد ہیں۔ جن میں زندگی کا لمبا ہونا، دل کے عارضے اور فالج اٹیک کے خطرات کم ہونا سر فہر ست ہیں ۔جرنل ہارٹ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ہفتے میں ایک یا دو بار کے بجائےاگر روزانہ نیم گرم پانی سے نہایا جائے تو قلب کی صحت پر واضح مثبت اثرات آتے ہیں ، طبی ماہرین کے مطابق اگر آپ لمبی زندگی جیناچاہتے ہیں تو روزانہ کی بنیا د پر نیم گرم پانی سے نہانے کو اپنی عادت بنا لیں ۔تحقیق کے نتائج سے متعلق جاپانی محقیقین کا کہنا ہےکہ اگر روزانہ کی بنیاد پر نیم گرم پانی سے’ ٹب باتھ ‘ لیا جائے تو اس سے ہائپرٹینشن یعنی بلند فشار خون میں کمی آتی ہے ، بلڈ پریشر متوازن رہنے کے نتیجے میں دل کی صحت برقرار رہتی ہے ، مجموعی صحت سمیت نیند بہتر ہوتی ہے ۔ماہرین کے مطابق جہاں روزانہ نیم گرم پانی کے فوائد سامنے آئے ہیں وہیں

ابھی یہ واضح نہیں ہوا کہ نیم گرم پانی سے نہانے سے دیرپا کیا نتائج حاصل ہو سکتے ہیں،جیسے کہ نیم گرم پانی اچانک دل کے دورے اور فالج اٹیک سے بچانے کا سبب بنتا ہے یا نہیں ۔طبی ماہرین کے مطابق ’ دی جاپان پبلک ہیلتھ سینٹر بیسڈ اسٹڈی ‘ کی جانب سے کی جانے والی اس تحقیق میں 61 ہزار سے زائد درمیانی عمر کے افراد نے بطور رضاکار حصہ لیا۔ان رضا کاروں سے ان کی نہانے کی عادات ، رہن سہن ، ورزش، غذا ، وزن (بی ایم آئی) ، سونے کے اوقات اور ان کو لاحق دیگر بیماریوں سے متعلق سوالنامہ پر کروا یا گیا ۔محققین کے مطابق 1990ء سے شروع کی جانے والی اس تحقیق میں رضاکاروں کے مرنے تک اُن پر تحقیق جاری رکھی گئی،2009ء تک 61 ہزار رضا کاروں میں سے30،076 ہزار رضا کاروں کے نتائج کے حاصل کیے گئے، ان سالوں کے دوران 2097 رضاکار دل کے عارضے میں مبتلا ہوئے ، 275 کو دل کے دوپر پڑے جبکہ 53 رضاکاروں کی اچانک موت واقع ہوئی اور 1769 فالج اٹیک سے دو چار ہوئے ۔محقیقین کے مطابق تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ جو افراد ہفتے میں ایک یا دو بار کے بجائے روزانہ نیم گرم پانی سے نہا رہے تھےاُن میں 28 فیصد دل کی بیماریاں کم پائی گئی تھیں اور دوسرے رضاکاروں کے مقابلے میں 26 فیصد فالج کے خدشات کم تھے ۔تحقیق کے مطابق پانی کے درجہ حرارت کا بھی اس میں اہم کردار ہے ،ایک مشاہدہ ہونے کے سبب محقیقین کا کہنا ہے کہ

اس تحقیق میں اس بات کا شبہ ہے کہ جن افراد کو نیم گرم پانی سے نہانے کے باوجود دل کا عارضہ لاحق ہوا وہ مدافعتی طور پر کمزور ہوں یا انہوں نے اس تحقیقی سالوں کے دوران اپنی نہانے کی عادات کواپنایا ہو۔

Leave a Comment

error: Content is protected !!