اندھا آنکھوں سے جائے مگر،دلچسپ تبصرہ

اردو نیوز! ایک اندھا آدمی ایک فائیو سٹار ھوٹل میں گیا!ہوٹل منیجر نے اس سے پوچھا: یہ ہما را مینو ہے ، آپ کیا لیں گے سر؟اندھا آدمی: میں اندھا ہوں،آپ مجھے اپنے کچن سے،چمچہ کوکھانے کی اشیاء میں ڈبوکر لا دیں،میں اسے سو نگھ کر،آرڈر کر دوں گا!منیجر کو یہ سن کربڑی حیرانی ہوئی۔اس نے دل ھی دل میں سوچا کہ،کوئی آدمی سونگھ کر کیسے بتا سکتا ھے کہ

ہم نے آ ج کیا بنایا ہے،کیا پکایا ہے!منیجر نے جتنی بار بھی،اپنے الگ الگ کھانے کی اشیاء میں،چمچہ ڈبوکر،اندھے آدمی کو سنگھایا، اندھے نے صحیح بتایا کہ وہ کیا ھے، اور اندھے نے سونگھ کر ھی کھانے کا آرڈرکیا ہفتے بھر یہی چلتا رھا ۔اندھا سونگھ کر آرڈردیتا اور کھانا کھا کرچلا جاتا!ایک دن منیجر نے اندھے آدمی کا بڑا امتحان لینے کی سوچی ۔منیجر کچن میں گیا اوراپنی بیوی حنا سے بولا کہ تم چمچہ کواپنے ہونٹوں سے گیلا کر دو!حنا نے چائے کے چمچے کواپنے ہونٹوں پر رگڑ کر منیجر کو دے دیا۔منیجر نے وہ چائے کا چمچہ اندھے آدمی کو لے جا کردیا اور بولا،بتاؤ آج ہم نے کیا بنایا ھے؟ اندھے آدمی نے چمچہ کو سونگھا اور بولا:اوہ مائی گاڈ،میری کلاس میٹ حنا یہاں کام کرتی ہے۔ یہ بات سُننے کی دیر تھی کہ وہ منیجر بے ہوش ہوگیا۔

میری شادی کو اکیس سال گزر گئے تھے‘ آج میری بیوی چاہتی تھی کہ میں کسی اور عورت کو باہر رات کے کھانے کے لئے لیکر جاؤں۔ میری بیوی نے کہا کہ وہ مجھ سے محبت کرتی ہے لیکن وہ یہ بھی جانتی ہے کہ وہ دوسری عورت بھی مجھ سے بہت محبت کرتی ہے اور وہ عورت بہت خوش ہوگی۔اگر میں اسکے ساتھ کچھ وقت گزاروں گا‘وہ دوسری عورت جس کا ذکر میری بیوی کر رہی تھی وہ اور کوئی نہیں میری اپنی امی تھیں‘ وہ انیس سال پہلے بیوہ ہوچکی تھیں لیکن میرا کام اور پھر میرے تین بچے میرے لئے بہت بڑی ذمہ داری تھے کہ میں بمشکل ہی اپنی امی سے مل پاتا تھا‘ اس رات میں نے اپنی امی کو کال کی اور انھیں کھانے کے لئے مدعوکیا‘ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ میں ٹھیک تو ہوں کیونکہ آج سے پہلے میں نے کبھی ان کے لئے شاید

ایسے وقت نہ نکالا تھا‘میں نے انھیں بتایا کہ میں ان کے ساتھ کچھ وقت گزارنا چاہتا ہوں وہ یہ سن کر بہت خوشی ہوئیں کیونکہ اتنے سال بعد انھیں اپنے بیٹے کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا تھا‘ جمعے کے دن آفس سے فارغ ہو کرمیں انھیں لینے کیلئے پہنچا‘ میں کچھ گھبرا رہا تھا کیونکہ کچھ بھی ہو اتنے سال بعد اپنی امی سے ملنے میں بھی مجھے ہچکچاہٹ محسوس ہو رہی تھی‘جب میں پہنچا تو میری امی میرا ہی انتظار کر رہی تھی‘ وہ مجھے دیکھ کر مسکرانے لگیں، انھوں نے مجھے بتایا کہ انھوں نے اپنے سب دوستوں کو بتایا کہ آج ان کا بیٹا صرف ان کے لئے وقت نکال کر انھیں کھانے پر لے جارہا ہے‘ یہ سن کر ان کے سب دوست بہت متاثر ہوئے۔ ہم ایک ریسٹورنٹ پہنچے وہاں کا ماحول بہت اچھا اور خوشگوار تھا‘ بیٹھنے کے بعد مجھے مینیو پڑھنا تھا کیونکہ

اب امی تو صرف وہی لفظ پڑھ پا رہی تھیں۔جو بڑے حروف میں تھے‘میں نے جب امی کی طرف دیکھا تو وہ مجھے ہی دیکھ رہیں تھیں‘ ان کے چہرے پر ایک معنی خیز مسکراہٹ تھی‘ انھوں نے مجھے کہا کہ وہ ہمیشہ مجھے مینیو پڑھ کر سناتی تھیں جب میں چھوٹا تھا‘ میں نے ان سے کہا کہ آج وہ مجھے اس موقع سے مستفید ہونے دیں‘ کھانے کے دوران ہم نے بہت ساری باتیں کیں، ایک دوسرے کی زندگیوں کے بارے میں بھی بات چیت کی‘ جب ہم گھر پہینچے تو انھوں نے مجھے کہا کہ میں تمہاے ساتھ دوبارہ جاؤں گی لیکن اس دفعہ میں تمہیں مدعو کروں گی‘ میں راضی ہوگیا۔جب میں گھر پہنچا تو میری بیوی نے مجھ سے پوچھا کہ ہماری ملاقات کیسے رہی؟ میں نے کہا بہت اچھی میری سوچ سے بھی زیادہ اچھی‘ کچھ دن بعد اچانک میری امی کو ہارٹ اٹیک آیا اور وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئیں‘ یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ مجھے ان کے لئےکچھ کرنے کا موقع ہی نہ ملا- کچھ دن بعد مجھے ایک لفافہ موصول ہوا

‘ اس میں اسی ریسٹورنٹ کی رسید کی کاپی تھی ساتھ ہی ایک خط بھی تھا جس میں لکھا تھا کہ میں نے ایڈوانس میں یہاں کا بل جمع کروا دیا ہے‘ مجھے پتہ نہیں کہ میں وہاں ہونگی یا نہیں لیکن پھر بھی میں نے دو لوگوں کے لئے جمع کروایا ہے ایک تمہارے لئے اور ایک تمہاری بیوی کے لئے تم اندازہ بھی نہیں کرسکتے کہ اس رات کی میرے لئے کتنی اہمیت ہے‘ میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں میرے پیارے بیٹے۔اسوقت مجھے اندازہ ہوا کہ وقت پر پیار کا اظہار کرنا کتنا ضروری ہے اور خاص کر اپنی فیملی کو وقت دینا جس کے وہ حقدار ہیں‘ زندگی میں فیملی سے زیادہ ضروری کچھ بھی نہیں ہے‘ میری آپ کیلئے یہی نصیحت ہے کہ اپنی فیملی کو وقت دیں کیونکہ اس وقت کو پھر کبھی کے انتظار میں نہیں چھوڑا جا سکتا کیونکہ پھر کبھی شاید وقت تو ہو پر وہ نہ ہو جسے اس وقت کی ضرورت تھی۔

Leave a Comment

error: Content is protected !!