خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیرمسلم قرآن پاک سے منہ موڑنے والوں کا کیا انجام ہوگا؟

اردو نیوز! قرآن کی آیات سے کفر برتنے والے مجرمین اور شرک کا ارتکاب کرنے والے۔ مشرکین اپنے سامنے جہنم کو دیکھ کر کہیں گے۔ وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ ۚ يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الْإِنسَانُ وَأَنَّىٰ لَهُ الذِّكْرَىٰ (سورہ الفجر:23)۔ اس ظہور نتائج کے دور میں جہنم سامنے لے آئی جائے گی۔ اُس دن انسان کو سمجھ آئے گی مگر اُس وقت اُس کے سمجھنے کا کیا حاصل؟ إِذَا رَأَتْهُم مِّن مَّكَانٍ بَعِيدٍ سَمِعُوا لَهَا تَغَيُّظًا وَزَفِيرًا۔(سورہ الفرقان:12) وہ جب دور سے ان کو دیکھے گی۔ تو وہ اُس کے غضب اور جوش کی آوازیں سن لیں گے۔

اس وقت جہنم کا داروغہ ان سے پوچھے گا۔ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَتْلُونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِ رَبِّكُمْ وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَـٰذَا۔ ۚ قَالُوا بَلَىٰ وَلَـٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكَافِرِينَ سورہ الزمر:71کیا تمہارے پاس خود تم میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ جنہوں نے تم کو تمہارے رب کی آیات سنائی ہوں۔ اور تمہیں یہ تنبیہہ کی ہو کہ ایک وقت تمہیں یہ دن بھی دیکھنا ہوگا۔ وہ جواب دیں گے، ہاں، آئے تھے۔ لیکن (وقت مہلت ختم ہونے پر) عذاب کا قانون کتاب اللہ سے کفر کرنے والوں پر حق ثابت ہوگیا۔ان مجرمین کے فیصلے کے بعد حکم ہوگا: خُذُوهُ فَغُلُّوهُ 30 ثُمَّ الْجَحِيمَ صَلُّوهُ 31 ثُمَّ فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُونَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوهُ 32 (سورہ الحاقہ) 30- پکڑلو اسے۔ اِس کی گردن میں طوق ڈال دو۔31- پھر اسے جہنم میں جھونک دو۔ 32- پھر اس کو ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں جکڑ دو۔

جہنم میں مجرموں کا آپس میں مکالمہ: پیروکار اپنے پیشوائوں کو مورد الزام ٹھہرائیں گے۔قرآن میں حکمان پر لعنت کریں گے کہ انہوں نے ان کو گمراہ کیا اور ان کے لئے دگنا عذاب کی درخواست کریں گے: اس دن مجر مین اپنے جرائم کو یاد کرکے روئیں گے ، چلائیں گے ، کف افسوس ملیں گے کہ اے کاش ہم نےکفر وشرک کا راستہ نہ اپنایا ہوتا، قرآن کا اتباع کیا ہوتا، اس کی آیات کی تکذیب نہ کی ہوتی۔ اپنے سیاسی سردار وں مذہبی پیشوائوں، اپنے بڑے بڑے اکابرین اور اپنے اباء و اجداد کی تقلید نہ کی ہوتی!قرآن اس ہولناک منظر میں ان کے درمیان ہونے والے عبرت ناک مکالموں کا نقشہ یوں کھینچتا ہے: قَالَ ادْخُلُوا فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ فِي النَّارِ ۖ كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ حَتَّىٰ إِذَا ادَّارَكُوا فِيهَا جَمِيعًا قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لِأُولَاهُمْ رَبَّنَا هَٰؤُلَاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ۖ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَٰكِن لَّا تَعْلَمُونٙ سورہ الاعراف:38پہلے والی امتوں کا احوالاللہ کہے گا کہ تم اپنے سے قبل گزرجانے والی امتوں—

خواہ وہ گنوار دیہاتی تھیں یا مہذب شہری— کے ساتھ آگ میں داخل ہوجائو۔ جب بھی ایک امت آگ میں داخل ہوگی تو وہ اپنے جیسی دوسری امت پر لعنت کرے گی۔ حتی کہ جب وہ سب کے سب اس آگ میں اکٹھے ہوجائیں گے تو ان کی ہر پچھلی ان کی پہلی جماعت کے متعلق کہے گی: اے ہمارے رب! انہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ لہٰذا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب دے۔ اللہ کہے گا کہ تم میں سے ہر ایک کے لئے دگنا عذاب ہے اور لیکن تم نہیں جانتے (کہ تمہاری عقیدت و تائید پر ہی ان کی پیشوائیت قائم تھی)۔يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا 66 وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا 67 رٙبّٙنٙآ اٰتِھِمْ ضِعْفٙیْنِ مخنٙ الْعٙذٙابِ وٙالْعٙنْھُمْ لٙعْنًا کٙبِیْرًا68(سورہ الأحزاب)66جس روز ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے تو وہ کہیں گے اےکاش!

ہم نے اللہ اور رسولؐ یعنی قرآن کے نظام کی اطاعت کی ہوتی۔ 67- اور کہیں گے اے ہمارے رب ! بیشک ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی تو انہوں نے ہمیں سیدھے راستے سے گمراہ کر دیا۔ 68- اے ہمارے رب ! تو انہیں دوگنا عذاب دے اور ان پر بہت بڑی لعنت کر (یعنی انہیں زندگی کی تمام نعمتوں، شادابیوں، کامرانیوں، خوش حالیوں سے محروم کردے)۔

Leave a Comment

error: Content is protected !!