پیلا خربوزہ کھانے سے پہلے حضور ﷺ کا آنکھیں کھول دینے والا یہ فرمان سن لو!

اردو نیوز! ہر پھل کو اللہ نے موسم لے لحاظ سے پیدا فرمایا کہ جس میں کوئی نہ کوئی خاصیت ضرور چھپی ہوتی ہے۔ ہم رمضان المبارک میں خربوزہ تو لازمی استعمال کرتے ہیں۔ اور اس پھل کو اپنی افطار کی زینت بناتے ہیں۔ لیکن ہمیں خربوزہ کو کب کھانا چاہیے ؟اس سے ہم بالکل ناواقف ہوتے ہیں۔ تو خربوزے کے متعلق ایک ایسی حدیث آپ کوبتائیں گے

جس کو جان کر آپ خربوزہ کو اپنے کھانے کا لازمی حصہ بنائیں گے۔ آپ سب جانتے ہیں کہ انسان کا جسم کا اسی فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے۔ خربوزہ وہ پھل ہے جو پانی کی کمی کو پورا کرتاہے۔ لواور گرمی کی شدت سے بچاتا ہے۔یہ نہ صرف انسانی جسم کی نشوونما کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ مختلف بیماریوں سے حفاظت میں بھی اہم کردار اداکرتاہے۔خربوزہ مختلف بیماریوں سے حفا ظت میں ایک مضبوط ڈھال کی حیثیت رکھتاہے۔ اس میں قدرتی طور پر وٹامن اے ، بی ، سی کے علاوہ فاسفورس اور کیلشیم جیسے پروٹین شامل ہوتےہیں۔ آپ نے یہ تو سنا ہی ہوگا کہ معدے تمام بیماریوں کی جڑ ہے اور معدے ٹھیک تو سب ٹھیک چلتا رہتا ہے۔ اگر آپ کسی بھی طرح کی معدے کی کوئی بیماری کا شکار ہیں۔تو آئیے

آج آپ کو خربوزے سے اس کا علاج نبوی بتاتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کھانےسےپہلے خربوزے کا استعمال پیٹ کو بالکل صاف کردیتا ہے اور بیماری کو جڑ سے ختم کردیتا ہے ۔ اسی طرح حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس ﷺ کو ” خربوزہ اور کھجور اکٹھے کھاتے ہوئے دیکھا ہے”۔ یہ ہے وہ طریقہ کہ جس طرح ہمیں خربوزہ کھانا چاہیے۔ تبھی جاکر ہمیں اس پھل کا صیحح فائدہ حاصل ہوگا۔لہٰذا افطاری میں پانی یا کھجور سے روزہ کھول کر آپ خربوزے کا استعمال کرسکتےہیں۔ پھرآپ دوسری چیزیں کھاسکتے ہیں۔ آخر میں کچھ احتیاط بھی سنتے جائیں کہ اس کو کھانے میں احتیاط بہت ضروری ہے۔مطلب خربوزہ کھانے کے بعدکبھی بھی پانی نہ پئیں۔ کیونکہ خربوزہ کھانے کے بعد

پانی پینےسے ہیضہ ہوجانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خربوزہ ہمیشہ دوپہر کے وقت کھانے کو ترجیح دیں۔ کبھی بھی خربوزہ رات کو مت کھائیں۔ اور اس صورت میں تو کبھی بھی نہ کھائیں۔ جب آپ نے رات کا کھاناکھالیا ہو۔رمضان المبارک کا مہینہ ہے اور اس مہینے میں افطاری کے اندر خربوزے کو اپنی زینت بناتے ہیں تو امید کرتے ہیں کہ خربوزے کے متعلق جو حدیث بتائی اور جو احتیاطیں بتائیں تو اس پر آپ ضرور با ضرورعمل کریں گے

Leave a Comment

error: Content is protected !!