سورہ اخلاص کے 9حیران کُن فوائد،رزق دروازے توڑ کر آئے گاہر دلی مراد اور خواہش پوری ہوگی

اردو نیوز! احادیث میں اس سورت کی بہت فضیلتیں وارد ہوئی ہیں ،ان میں سے تین اَحادیث اور ایک وظیفہ یہاں درج ذیل ہے۔ (1) …حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے. نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’کیا تم میں سے کوئی اس سے عاجز ہے کہ وہ رات میں قرآن مجید کا تہائی حصہ پڑھ لے؟صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْکو یہ بات مشکل معلوم ہوئی

اور انہوں نے عرض کی۔ یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟آپ صَلَّی اللّٰہُ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’سورۂ اخلاص تہائی قرآن کے برابر ہے۔( بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب فضل قل ہو اللّٰہ احد،۳/۴۰۷، الحدیث: ۵۰۱۵)(2) …۔حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں۔ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَنے ایک شخص کو ایک لشکر میں روانہ کیا۔ وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تو (سورۂ فاتحہ کے ساتھ سورت ملانے کے بعد)سورۂ اخلاص پڑھتے تھے۔ جب لشکر واپس آیا تو لوگوں نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے یہ بات ذکر کی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان سے ارشاد فرمایا۔ ’’اس سے پوچھو کہ

تم ایسا کیوں کرتے ہو؟جاری ہے۔۔۔جب لوگوں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا۔ یہ سورت رحمن کی صفت ہے۔ اس وجہ سے میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں۔تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اسے بتا دو کہ اللّٰہ تعالیٰ اس سے محبت فرماتا ہے۔( بخاری، کتاب التّوحید، باب ماجاء فی دعاء النّبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم… الخ، ۴/۵۳۱، الحدیث: ۷۳۷۵)(3) …۔حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ۔ایک شخص نے سیّدِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے عرض کی کہ’’ مجھے اس سورت سے بہت محبت ہے۔ ارشاد فرمایا’’ اس کی محبت تجھے جنت میں داخل کردے گی۔( ترمذی، کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء فی سورۃ الاخلاص، ۴/۴۱۳، الحدیث: ۲۹۱۰)(4) …۔تفسیر صاوی میں لکھا ہے کہ

جو شخص گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرے اور اگر گھر خالی ہو تو حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو سلام کرے اور ایک بار قُلْ هُوَ اللّٰهُپڑھ لیا کرے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّفقرو فاقہ سے محفوظ رہے گا (صاوی، سورۃ الاخلاص، ۶/۲۴۵۰، ملخصاً) اور یہ بہت مُجَرّب عمل ہے۔حضرت انس ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت فرماتے ہیں جو شخص روزانہ دو سو مرتبہ قل ھواللہ احد پڑھے تو اس کے پچاس سال کے گناہ اس کے نامہ اعمال سے مٹادیئے جاتے ہیں البتہ اس پر اگر قرض ہو تو وہ معاف نہیں ہوتا جب تک ادا نہ کرے یا صاحب حق معاف نہ کرے ۔روزانہ دو سو مرتبہ سورہ اخلاص آپ پڑھ سکتے ہیں آپ کسی بھی وقت پڑھ لیجئے چاہے رات کو جب سونے کے لئے جائیں تو پڑھ لیجئے یا آپ کسی بھی وقت پڑھ سکتے ہیں

بس آپ نے دو سو مرتبہ قل ھو اللہ احد پڑھنا ہے اور اس کے اول آخر آپ نے درود ابراہیمی لازمی پڑھ لینا ہے درود شریف پڑھنے کےبعد سورہ اخلاص کو 200 مرتبہ پڑھ لیجئے ہم سب گناہ گار ہیں ۔اور بے شک ہم گناہ گار ہے اور ہمارے لئے اس سے زیادہ کیا بات ہوگی کہ ہمارے پچاس سال کے گناہ مٹادیئے جائیں اور اس سے بڑھ کر ہمارے لئے کیا انعام ہوسکتا ہے ایک اور حدیث ہے حضرت انس ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ جو شخص سوتے وقت دائیں کروٹ پر لیٹ کر سو مرتبہ قل ھو اللہ احد پڑھے تو قیامت کے دن اللہ اس سے فرمائیں گے اے میں بندے دائیں جانب سے جنت میں داخل ہوجایعنی آپ اس سے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ چھوٹا ساکام ہے چھوٹا سا عمل ہے اور اس کی فضیلت و اجر بہت زیادہ ہے تو

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ اے میرے بندے دائیں جانب سے جنت میں داخل ہو جا۔۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: سب جمع ہوجاؤ تمہیں ایک تہائی قرآن سناؤں گا۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جمع ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے اور قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ پڑھی اور ارشاد فرمایا یہ سورۃ ایک تہائی یعنی تیسرا حصہ قرآن کے برابر ہے۔ایک آدمی کو سورہ الاخلاص سے بہت محبت تھی اور اس محبت کی وجہ سے وہ اس سورت کو ہر نماز کی قراء ت کے اختتام پر پڑھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس کی اس سورت سے محبت کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کر دیا۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے اس صحابی کے متعلق جو امام تھے

اور ہر نماز میں قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ ضرور پڑھا کرتے تھے۔اور جب ان سے اس کا سبب در یافت کیا گیا تو کہا: مجھے اس سورت سے بے حدمحبت ہے۔ فرمایا: اس شخص کو خبر دے دو کہ بے شک اللہ تعالیٰ بھی اس شخص سے محبت کرتے ہیں۔ ایک اور حدیث میں ایک صحابی کا واقعہ آیا ہے کہ وہ ہمیشہ اور سورتوں کے ساتھ سورۂ اخلاص ہر رکعت میں ضرور پڑھا کرتے تھے،جب ان سے اس کا سبب دریافت کیا گیا تو انھوں نے کہا: مجھے اس سورت سے بہت محبت ہے تو اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا: اس سورت کی محبت ہی تم کو جنت میں داخل کردے گی۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک شخص کو صدقِ دل سے قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا: اس شخص کے لیے جنت واجب ہو گئی۔جو شخص دن میں دو سو مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے، اس سے 50 سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، الا یہ کہ اس پر کسی کا قرض ہو۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔آمین

Leave a Comment

error: Content is protected !!