سڑکوں پر یہ کیوں لگائے جاتے ہیں؟ جانیں ان اسپیڈ بریکر کے بارے میں وہ معلومات جو آپ کو ضرور معلوم ہونی چاہئیں

اردو نیوز! دنیا کے کسی بھی ملک میں (روڈ اسٹڈز )اسپیڈ بریکر کے طور پر لگانا ممنوعہ ہے لیکن پاکستان میں آج بھی اکثر بڑی شاہراہوں پر یہ اسپیڈ بریکر کے طور پر استعمال کیے جارہے ہیں۔یہ اینٹ نما روڈ اسٹڈز نہ صرف گاڑی کے پہیے کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتے ہیں بلکہ ٹائر کی بیلینسنگ کو بھی متاثر کرتے ہیں جو کسی بڑے حادثے کی وجہ بن سکتے ہیں۔

اسپیڈ بریکرز کے نام کی اس خطرناک چیز سے ڈرائیورز حضرات کی تو جان جاتی ہے، غیر سائنٹفک انداز میں نصب کردہ اسپیڈ بریکر کے باعث عوام کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے پہلے بھی انہیں ہٹانے کےحکم نامہ جاری کیا جا چکا ہے لیکن عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

وہ ملک جس کا بادشاہ 21 سال تک پائلٹ کی نوکری کرتا رہا، بادشاہ کا راز کیسے فاش ہوا؟

کسی بھی ملک کا بادشاہ ہونا آسان کام نہیں کیونکہ اس عہدے کی ذمہ داریاں اور لوگوں سے ملنا وغیرہ کافی وقت طلب ہوتا ہے مگر ایک ایسے حکمران نے اپنی خفیہ جز وقتی ملازمت کے لیے بھی وقت نکال لیا اور وہ بھی پورے 21 سال تک جس کا کسی کو علم بھی نہیں ہوسکا۔ ولیم الیگزینڈر نیدرلینڈ کے بادشاہ ہیں اور انہوں نے حال ہی میں انکشاف کیا کہ وہ اکیس سال سے کے ایل ایم (فضائی کمپنی) میں کو پائلٹ کی نوکری کرتے رہےجس کے دوران وہ ایک ماہ میں دو بار پروازیں لے کر جاتے۔ڈچاخبار ڈی ٹیلیگراف کو انٹرویو دیتے ہوئے پچاس سالہ بادشاہ نے طیاروں کو اڑانا اپنا ‘مشغلہ’ قرار دیا جس سے انہیں اپنے شاہی فرائض سے جان چھڑانے کا موقع ملتا۔انہوں نے بتایا ‘

آپ کے پاس ایک طیارہ، مسافر اور عملہ ہوتا جو آپ کی ذمہ داری ہوتے، آپ زمین پر موجود اپنے مسائل کو آسمانوں پر نہیں لے جاسکتے، بلکہ آپ کو اپنی پوری توجہ کسی اور چیز پر مرکوز کرنا پڑتی ہے، میرے لیے تو یہ اس ملازمت کا سب سے پرسکون پہلو تھا۔وہ کے ایل ایم کے بیٹرے میں شامل فوکر طیاروں کے مہمان پائلٹ رہے جبکہ اب وہ بوئن 737 کو اڑانے کی تربیت لے رہے ہیں۔ویسے تو لوگوں کو ان کے طیارے اڑانے کے حوالے سے جذبے کا علم تھا مگر یہ پہلی بار سامنے آیا ہے کہ وہ باقاعدہ پائلٹ کی ملازمت بھی کرتے رہے۔ڈچ بادشاہ بھی پرواز کے دوران اعلان کرتے ہوئے کبھی اپنا نام استعمال نہیں کرتےجبکہ یونیفارم اور کمپنی کی ٹوپی پہنے دیکھ کر بھی بیشتر افراد انہیں پہچاننے سے قاصر رہتے۔

Leave a Comment

error: Content is protected !!