کیا آپ بھی چادر سے ایک پاؤں باہر نکال کر سوتے ہیں،ماہرین نے نئی تحقیق میں اہم انکشاف کردیا

اردو نیوز! اکثر افراد کو ایک دلچسپ عادت ہوتی ہے کہ وہ سوتے وقت اپنا ایک پیر کمبل یا چادر میں سے ضرور باہر رکھتے ہیں۔اس عادت پر لوگ خود ہی ہنس بھی دیتے ہیں اور سوشل میڈیا پر لطائف بھی بناتے ہیں لیکن کمبل سے ٹانگ باہر نکالنے کی ایک سائنسی وجہ ہے جو بہت کم لوگ جاتے ہیں۔تاہم نیو یارک میگزین اور The Science of US Sleep Institute نے حال ہی میں اس عمل کی سائنسی وجہ دریافت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ

پاؤں ہمارے جسم کا بغیر کوئی والا ایسا حصہ ہوتا ہےجو قدرتی طور پر جسم کو ٹھنڈا یا گرم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس کے علاوہ پیروں میں پیچیدہ نسوں کا جال بچھا ہوتا ہے جن کو جسم کی تمام گرمی باہر نکالنے کے لئے راستہ درکار ہوتا ہے اس لئے ہم جسم کا درجہ حرارت بڑھتے ہی اسے معمول پہ لانے کے لئے پاؤں کو کمبل سے باہر نکالنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔اسی طرح اگر سردی محسوس ہورہی ہو توموزے پہن لینے سے جسم کا درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے۔پیروں کا جسم کو ٹھنڈا رکھنا پرسکون نیند کے لئے بھی بہت ضروری ہے۔ ریسرچ سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ جسم کا کم درجہ حرارت ہمیں گہری نیند میں جانے میں مدد دیتا ہے۔رات میں سونے کی وجہ بھی یہی ہے کہ دن کی نسبت رات قدرے ٹھنڈی ہوتی ہے

جس کی وجہ سے خودبخود نیند آنے لگتی ہے۔آپ نے جواپنے دوست واحباب سے بات سنی ہے وہ صحیح نہیں ، چاند رات اورعید والے دن بیوی سے ہم بستری کرنی مباح ہے ، ہم بستری توصرف مندرجہ ذيل حالت میں حرام ہے :رمضان میں دن کے وقت ، حج اورعمرہ کے احرام کی حالت میں ، یا پھر اگرعورت حائضہ اورنفاس والی ہو ۔کیا چاند رات کو قربت کر سکتے ہیں ؟ سنا ہے کہ چاند رات قربت کی جا ئے تو بچہ بد صورت پیداہوتا ہےدیکھیں میں یہ مسئلہ آپ کو سمجھا نا چاہتا ہوں اگر چاند رات لیلۃ الجائزہ اس کو کہا جا تا ہے لیلۃ الجائزہ کا مطلب ہو تا ہے کہ اس رات اپنے بندوں کو جنہوں نے روزے رکھنے ہو تے ہیں۔ان کی مغفرت فر ما تے ہیں ان کی دعائیں قبول کر تے ہیں

جو چیزیں ان کو ضرورت ہو تی ہیں اللہ انہیں عطا کر تے ہیں تو کچھ لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ شاید اس رات کو قربت نہیں کرنی چاہیے۔ یا پھر طاق راتیں جتنی بھی ہیں جیسا کہ پچس کی رات تئیس کی رات انتیس کی رات ان میں قربت نہیں کر نی چاہیے تو یہ بات غلط ہے چاہے وہ چاند رات ہو چاہے وہ طاق راتیں ہوں اس میں قربت کر نا جا ئز ہے اللہ رب العزت قرآنِ پاک میں ارشاد فر ما تے ہیں کہ تم اپنی بیویوں کے پاس جہاں سے چاہو آ سکتے ہو ۔ میری بات ذرا دھیان سے سماعت فر ما ئیے گا۔اس کا مطلب مفسرین یہ بیان فر ما تے ہیں کہ بیوی کو جہاں سے چاہو تم آ سکتے ہو۔ ادب کا تقاضے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جہاں سے چاہو آ سکتے ہو اور دوسرا مطلب یہ ہے کہجب چاہو آ سکتے ہو۔ کہنے کا میرا مطلب ہے کہ

اگر میاں بیوی آپس میں راضی ہوں تو وہ دن میں دس بات چاہیں دس بار قربت کر سکتے ہیں پانچ دفعہ رات میں قربت کر سکتے ہیں شریعت نے اس کی کوئی قید متعین نہیں کی ہے کہ تم صبح شام نہیں کر سکتے یہ تم چاند رات کو نہیں کر سکتے اس کے دن متعین نہیں کیے ہیں بس چند صورتیں ہیں۔جب بیوی کو ح ی ض آ رہا ہو اس وقت قربت نہیں کر سکتے لیکن بیوی کے جسم سے کھیل سکتے ہیں میاں بیوی ایک دوسرے سے تعلق میاں بیوی والا نہیں کر سکتے ویسے ایک دوسرے کے جسم کے ساتھ فائدہ حاصل کر سکتے ہیں دخول نہیں کر سکتے البتہ ۔ بچہ بد صورت پیدا ہو تا ہے یہ بات بالکل غلط ہے کوئی اس پر کوئی حقیقت نہیں ہے آپ جب چاہو دن میں چاہو رات کو چاہو طاق رات کو چاہو۔ میاں بیوی سے قربت کر سکتے ہیں اس میں کوئی ممانیت نہیں ہے۔ اللہ ہمیں اسلام کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فر ما ئیں۔ آمین۔

Leave a Comment

error: Content is protected !!