پاکستان کا وہ ضلع جو 48 سال کا ہوگیا لیکن 80فیصد عوام آج بھی غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہورہی ہے

اردو نیوز! کوہلو کو ضلع بنے 48 سال کا عرصہ ہونے کو ہے مگر 80 فیصد عوام آج بھی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں معدنی وسائل کی دریافت کوہلو کیعوام کی دیرینہ خواہش ہے گیس و تیل کی دریافت سے علاقے میں ترقی و خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی, مگر گیس کمپنی نے آتے ہی عوام کے دیرینہ خواہش اور علاقے میں ترقی و خوشحالی کی امیدوں پر پانی پھیر دیا روشنی کی جو کرن نظر آئی

وہ اندھیرے میں تبدیل ہوتا ہوا نظر آرہا ہے مظلوم عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت کسی کسی کو نہیں دیں گےعوام کے خدشات اور تحفظات کو دور کیا جائے گیس و تیل کے تلاش میں سرگرم حکومتی اداروں کی مکمل معاونت کریں گے ان خیالات کا اظہار نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر محراب بلوچ , بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر ملک گامن خان مری , جمیعت علمائے اسلام کے ضلعی امیر مولانا محمد امین مری , مری قومی اتحاد صوبائی ایڈوائزر غازیخان مری, آل پاکستان مری اتحاد کے آرگنائزر میر نعمت مری , پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے ضلعی سیکرٹری جمعہ خان زرکون , عوامی اتحاد پارٹی کے جنرل سیکرٹری نوریز مری سمیت قومی یکجہتی کونسل برائے تیل و گیس کے رہنماں نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی سیکرٹریٹ میں پرہجوم پریس

کانفرنس کرتے ہوئے کہی, رہنماں کا مزید کہنا تھا کہ گیس و تیل سمیت دیگر معدنی وسائل کی تلاش اور دریافت میں ہر سطح پر حکومتی اداروں کی معاونت کے لیے تیار ہیں مگر ان شرائط پر جس سے علاقے کے مقامی لوگوں کو ان کے حقوق مکمل طور پر فراہم کئے جائیںاس سے قبل بلوچستان جہاں کہیں بھی معدنی ذخائر دریافت ہوئے وہاں کے مقامی افراد کو مکمل نظر انداز کر کے محروم رکھا گیا اگر کوہلو میں بھی مقامی افراد کو اس طرح نظر انداز کیا گیا جیسے سوئی , ریکوڈک , سیندک اور گوادر میں تو عوام کے حقوق کی حصول اور تحفظ کے لیے ہر فورم پر اپنا آئینی جدوجہد جاری رہینگے میگا پروجیکٹ کے آغاز پر ہی بے ضابطگیاں کی گئی بااثر افراد کے ساتھ مل کر قومی وسائل کی بندر بانٹ کی گئی

زمینداروں کے شجرات , فصلوں , باغوں اور جنگلات کو بے دردی سے نقصان پہنچایا گیا ہے مگر انہیں معاوضے سے محروم رکھا گیا ہے مقامی افراد کو ان کے زمینوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ کوہلو کے دوردراز اور دیہی علاقوں میں رہائش پذیر افراد کا ذریعہ معاش زراعت اور گلہ بانی کے پیشے سے وابستہ ہے جہاں زمینداروں کو نقصان پہنچایا گیا وہی پر قدرتی چراگاہوں اور جوہڑوں تالابوں میں آبی ذخائر کو بے دردی سے استعمال کیا جارہا ہے جس سے مقامی لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں ۔قومی یکجہتی کونسل کے رہنماں نے حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں تیل وگیس کی آمدنی میں قومی رائلٹی کا فوری تعین کیا جائے، ریفائنری پلانٹ کو کوہلو میں لگایا جائے مقامی پڑھے لکھے

نوجوانوں کی تربیت کے لئے ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر کا قیام عمل میں لایا جائے پورے ضلع کو مفت گیس کی سہولت فراہم کی جائے متاثرہ زمین مالکان کو فوری معاوضہ دیا جائے ترقیاتی منصوبوں کے لیے حکومتی کمیٹی کے ساتھ قومی کمیٹی کے مشاورت بھی لی جائے ملازمتوں پر مقامی بے روزگار نوجوانوں کو اولین ترجیح دی جائے ناخواندگی کی شرح کو مد نظر رکھتے ہوئے خصوصی تعلیمی پروگرامز شروع کئ

Leave a Comment

error: Content is protected !!