ماہرین نےنئی تحقیق میں حیران کردینے والا انکشاف کردیا، انگلیاں چٹخانے والے ہوجائیں ہوشیار

اردو نیوز! ایک نئی رپورٹ کے مطابق انگلیاں چٹخانا نقصان دہ عادت ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب آپ اپنی انگلیاں چٹخاتے ہیں تو جوڑوں کی سطح الگ ہو جاتی ہے اور اس عمل کےدوران ایک لیکوئیڈ بلبلے بناتا ہے۔یہ بلبلے پھٹتے ہیں تو ہمیں چٹخنے یا کڑکڑانے کی آواز آتی ہے۔جب آپ انگلی چٹخاتے ہیں تو جوڑوں کا پریشر خارج ہوتا ہے۔جس کے نتیجے میں اعضا سکون محسوس کرتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ

انگلیاں چٹخانے سے جوڑ ڈھیلے ہو جاتے ہیں۔1990 میں ہونے والی ایک ریسرچ میں کہا گیا تھا کہ انگلیاں چٹخانے سے جوڑوں میں ورم آ جاتا ہے، جس سے انگلیوں کی شکل ہی بدل جاتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ انگلیاں چٹخانے کی بجائے چند دوسری ورزشیں کرنا زیادہ فائدے مند ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ انگلیاں چٹخانے کی بجائے اپنی مٹھی پانچ بار کھولیں اور بند کریں۔دوسری ورزش میں اپنی انگلیوں کو اس طرح ہی حرکت دیں جیسے چٹخاتے ہوئے دیتے ہیں لیکن چٹخائیں نہیں۔اس کے علاوہ اپنی تمام انگلیوں کو ایک ایک کر کے کھولیں اور بند کریں۔اپنی دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پھنسا کر لہروں کی طرح ہلائیں۔اس سے پہلے سامنے آنےو الی ایک تحقیق میں ماہرین نے بتایا تھا (تفصیلاتاس صفحے پر) کہ

انگلیاں چٹخانے سے انگلیوں کو کوئینقصاننہیں ہوتا۔ماہرین نے یہ بھی کہا تھا کہ انہوں نے جوڑوں کو چٹخانے والوں اور نہ چٹخانے والوں کے جوڑوں میں کوئی فرق نہیں دیکھا۔اس سے ایک ڈاکٹر کی تحقیق کے نتائج کو بھی تقویت ملی جس نے 60سال تک اپنے صرف ایک ہاتھ کے جوڑ چٹخائے تاکہ ان میں فرق دیکھ سکے۔اس نے بھی 60سال میں دونوں ہاتھوں میں کوئی فرق نہیں دیکھا۔

چین سے انجینئرنگ کی ڈگری لانے والا تربوز کا جوس بیچنے لگا

چین سے ایئرو ناٹیکل انجینئرنگ کی ڈگری لے کر وطن واپس آنے والا تربوز کا جوس بیچنے لگا ۔ تفصیلات کے مطابق عبدالملک چین سے ایئرو ناٹیکل انجینئرنگ کی ڈگری لے کر وطن واپس آئے تھے مگر سفارش نہ ہونے کے باعث مناسب نوکری کی تلاش میں ہیں۔عبدالملک کی اسکولنگ عرب امارات میں ہوئی،ایئروناٹیکل انجینئرنگ کی ڈگری انہوں نے چین کی یونیورسٹی سے حاصل کی۔سوات سے تعلق رکھنے والا یہ نوجوان اچھے مستقبل کا خواب لے کر پاکستان آیا تھا، ایئرو ناٹیکل کمپلیکس کامرہ میں انٹرن شپ کی۔پشاور فلائنگ کلب میں ٹرینی انجینئر اور ایک نجی ایئرلائن میںاسسٹنٹ ریمپ آفیسر کی ملازمتوں میں چند سال بھی لگائے مگر نہ اہلیت کے مطابق

عہدہ ملا، نہ حق کے مطابق تنخواہ ہی ملی۔جب بیس پچیس ہزار میں گھر چلانا ممکن نہ رہا تو عبدالملک زندگی کی گاڑی گھسیٹنے کراچی آ گئے اور یہاں تربوز کا جوس بیچنے لگے۔عبدالملک پشتو، اردو، انگریزی، عربی اور چائنیز زبانیں جانتے ہیں ۔

Leave a Comment

error: Content is protected !!