شوگر کے مریضوں کو جامن کیوں کھانا چاہیے؟ ماہرین صحت نے جامن کھانے کے فوائد بتادیا

اردو نیوز! خوش رنگ اور خوش ذائقہ پھل جامن جہاں دیکھنے اور کھانے میں بھلا محسوس ہوتا ہے وہیں ہماری صحت کے لئے اس میں بے شمار فائدے بھی پوشیدہ ہیں۔ جامن کا اصل تعلق برصغیر پاک و ہند سے ہی ہے البتہ اب یہ دیگر ممالک میں بھی آسانی سے دستیاب ہے۔ ویسے تو اس پھل کے بہت سے فائدے ہیں لیکن اس آرٹیکل میں میں ہم جامن کے ان فوائد پر بات کریں گے

جن سے بڑی بڑی بیماروں سے لڑنے میں مدد مل سکتی ہے1- ذیابیطسجامن ایسا نایاب پھل ہے جو شوگر کے مرض میں بھی فائدہ مند ہے۔ جامن ذیابیطس کی علامات جیسے پیاس کی شدت اور بار بار پیشاب کی حاجت کو کم کرتا ہے۔ چونکہ جامن میں Glycemic Index یعنی خون میں شکر بنانے والے عنصر کی شرح انتہائی کم ہے اس لیے جامن بلڈ شوگر نہیں بڑھاتا۔ جامن کے پتے اور چھال ذیابیطس کی دوائیاں بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔ شوگر کے مریض ڈاکٹر کے مشورے سےجامن کا رس ہلکی کالی مرچ ڈال کر بھی پی سکتے ہیں2- آئلی اسکن اور دانےچکنی جلد سے پریشان رہنے والے لوگوں کے لئے جامن مفید پھل ہے۔ جامن میں خون صاف کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے اس لیے چکنی جلد

سے چہرے پر ایکنی رکھنے والے لوگوں کو جامن کھانے سے افاقہ ہوتا ہے3- خون کی کمی کو دور کرتا ہےجامن میں موجود وٹامن اے، سی اور آئرن، خون میں ہوموگلوبن یعنی سرخ خلیات کو بڑھاتا ہے۔ اس کے علاوہ جامن کھانے سے آکسیجن بھی بڑھتی ہے4- دانتوں اور مسوڑوں کی حفاظتجامن میں موجود اینٹی بیکٹیریل خواص دانتوں اور مسوڑوں کے انفیکشن کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ جامن کے پتوں کو سکھا کر پیس کے ان کا پاؤڈر بھی بنایا جاتا ہے جو ٹوتھ پاؤڈر کی طرح استعمال کرنے سے منہ کی بدبو اور مسوڑوں سے خون آنے کی شکایت کو کم کرتا ہے5- اینٹی ملیریاچونکہ

ملیریا بھی مچھر کے کاٹنے کے بعد جسم میں داخل ہونے والے وائرس یا بیکٹیریل انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے اس لئے جامن ملیریا کی علامات بھی کم کرتا ہے۔ اس میں موجود مالک ایسڈ، ٹیننز، گالک، آگزیلک اور بیٹولک ایسڈ عام انفیکشن اور ملیریا سے بچاؤ کے لیے مفید ہیں۔

Leave a Comment

error: Content is protected !!