بڑی عید سے پہلے یہ وظیفہ کر لیں،اگرفقیر بھی پڑھے تو عید سے پہلے مالدار بن جا ئے گا

کائنات نیوز! آج آ پ کےلےو ایک ایسا وظفہا لے کر آئے ہںخ۔ آج آپ کو اللہ تعالیٰ کے دو ناموں کا ایک آسان سا وظفہ بتائںئ گے۔ اس وظفےل کو عدکالاضحیٰ یینہ قربانی والی عدا سے پہلے پہلے کرنا ہے۔ انشاءاللہ! اس وظفےر کے کرنےسے آپ کی کوئی بھی بڑی سے بڑی حاجت پوری ہوگی۔ جو بھی حاجت آ پ مانگںپ گے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کوفورا ً دیں گے۔ صرف دو الفاظ اللہ تعالیٰ کے دو ناموں کا وظفہب ہے۔

انشاءاللہ! اللہ تعالیٰ کے دو نام ہںپ۔ اور یہ بھی بتائںٓ گے کہ آپ نے یہ وظفہظ کسےح کرنا ہے؟ اللہ تعالیٰ کے وہ دو نا م ہں ۔ “یا مجد ، یاوھاب” ہںپ۔ اب آپ کو وظفہک بتاتے ہںف۔ اللہ تعالیٰ کے وہ دو نام ہںف۔ “یا مجد؟ ، یا وھاب” یہ دونام ہںی۔ یہ دو نام یا د کرلںپ۔ ان دو ناموں کا وظفہہ آپ نے کرنا ہے۔ وظفےل کےلےو ایک وقت مقرر ہے آپ نے اس وقت پر اس وظفےا کو کرنا ہے۔وہ وقت ہے فجر کی نماز کے بعد کا۔ آپ نے ان دوناموں کی تسبحک دو سو دفعہ کرنی ہے۔ اکٹھی یینک “یا مجدک ، یا وھاب” یہ ایک دفعہ ہوجائےگی۔ پھر” یا مجدی، یا وھاب”دودفعہ ہوگا ۔اس طرح آپ نے دو سو مرتبہ ان دوناموں کو ورد کرناہے۔ اول وآخر آپ نے درود پاک بھی پڑھناہے۔ اور آیت الکرسی بھی پڑھنی ہے۔ یینا آپ درود شریف اگر گاے

رہ دفعہ اول وآخر پڑھتے ہںو۔ توٹھکا ہے۔ جتنی دفعہ چاہںس پڑھ سکتے ہںپ۔ یہ آپ کی مرضی ہے۔ اور آیت الکرسی آپ ایک ایک دفعہ اول وآخر پڑ ھ لں ۔ اور پھر یہ وظفہں آپ نے مکمل کرنا ہے۔ وظفےن کی جو وقت ہے۔ وہ آپ کو بتادیا ہے۔ اب اس وظفےد کو کتنے دن کرنا ہے۔ آپ جتنے دن چاہں کرسکتے ہںڑ۔ وظفہن کرنے کے فوراً بعد آپ نے دعا بھی کرنی ہےآپ جو بھی دعا مانگںن گے۔ آپ جو بھی حاجت مانگںب گے ۔ اللہ پاک آپ کو وہ حاجت دے دیں گے۔ آپ کی وہ حاجت قبول ومنظور ہوگی ۔آپ کو وہ حاجت مانگتے ہی مل جائےگی۔ عدا الاضحیٰ تک آپ نے اس وظفےی کو کرنا ہے۔ عدگ الاضحیٰ جتنی دفعہ ہوسکے کریں۔ بے شک روزانہ کریں۔ وقفہ دے کر کریں۔ جتنی دفعہ ہوسکے اس وظفےن کو کرنا ہے۔

اور پھر دو دن کرلںا۔ پانچ دن ۔ آپ کی تمام تر حاجتں پوری ہوجائںا گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بہت ساری دولت سے نوا ز دیں گے۔ یہ جو میں نے وظیفہ بتا یا ہے اگر آپ اس کو عید الا ضحیٰ سے پہلے کر لیتے ہیں تو اس کے کرنے سے آپ کی جو مشکلات ہیں وہ حل ہو جا ئیں گی اور رزق کی جو ٹینشن ہیں وہ بھی دور ہو جا ئے گی۔ اور آپ مالدار ہو جا ئیں گے۔ تو اس وظیفہ کو آپ نے کامل یقین کے ساتھ کرنا ہے اگر آپ کامل یقین کے ساتھ کر یں گے تو اس سے آپ کو ہی فائدہ ہو گا قرآن مجید کی اس چھوٹی سی سورۃ مبارکہ کا وظیفہ کرنے والوں کے دن پھر گئے”>قرآن مجید کی اس چھوٹی سی سورۃ مبارکہ کا وظیفہ کرنے والوں کے دن پھر گئے سورۃ النصر کا ایک ایسا خاص عمل جس کے کرنے سے انشاء اللہ آپ اللہ رب العزت سے جو دعا مانگیں گے

اللہ رب العزت آپ کی ہر دعا کو قبول فرمائیں گے آپ کو کامیابیاں ہی کامیابیاں عطافرمائیں گے لیکن سورہ نصر کا یہ خاص عمل جاننے سے قبل آپ سے درخواست ہے کہ درود پاک پڑھ لیجئے اور پاک صاف ہوجائیے۔ زندگی میں ہر قسم کی کامیابی حاصل کرنے کے لئے ہر قسم کی پریشانیوں سے نجات کے لئے ہر قسم کی مشکلات کے حل کے لئے سورۃ النصر کا وظیفہ بہت ہی مجرب ہے سورہنصر کا وظیفہ کرنے والوں کو زندگی کی سب سے بڑی کامیابی کیسے مل جاتی ہے ؟سورہ نصر کی پہلی آیت اذا جاء نصراللہ کے لفظ نصر کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہےاس سورت سورۃ النصر کو پڑھنے سے آپ کے لئے ہر میدان میں کامیابی کے دروازے کھلیں گے اور لکھا ہے کہ اس سورت کو ہر روز سات مرتبہ پڑھنے سے انشاء اللہ

ہر بلا سے ہر مصیبت سے محفوظ رہے گا اور فتح اور مدد میسر ہوگی اور اگر کوئی اس سورت کو روزانہ پڑھے تو دشمن پر فتح یابی حاصل کرے گا اور اگر کوئی اس سورت کو رنگ پر کنندہ کر کے جال میں لگا دے تو اس جال میں مچھلیاں بھی خوب آئیں گےسورۃ النصر کے مزید خواص اور فضائل احادیث میں وار د ہوئے ہیں ۔تقریبا ہر مسلمان کو یہ سورت زبانی یاد بھی ہوگی ۔ ترجمہ ہے جب خدا کی مدد اور کامیابی آن پہنچی اور آپ دیکھیں گے کہ لوگ گروہ در گروہ خدا کے دین میں داخل ہورہے ہیں پس تم اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد و ثنا بیان کرو اور اس سے استغفار کرو کہ وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہےحضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہےکہ یہ قرآن مجید کی آخری سورت ہے

یعنی اس کے بعد کوئی بھی مکمل سورت حضور پاک پر نازل نہیں ہوئی اور مسند احمد میں ہے کہ جب یہ سورت مبارکہ نازل ہوئی تو حضور نبی کریم نے فرمایا کہ مجھے میری وفات کی خبر دے دی گئی ام المومنین حضرت ام حبیبہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب یہ سورت مبارکہ نازل ہوئی تو حضور اکرم نے فرمایا کہ اس سال میرا انتقال ہونے والا ہےیہ بات سن کر حضرت فاطمہ ؓ روددیں اور اس پر آپ نے فرمایا کہ اے فاطمہ میرے خاندان میں تم سب سے پہلے مجھ سے آکر ملو گی تو یہ بات سن کر حضرت فاطمہ ؓ مسکرا دیں ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ مجھے غزوہ بدر میں شریک ہونے والے بڑے بڑے شیوخ کے ساتھ اپنی مجلس میں بلاتے تھےیہ بات بعض لوگوں کو ناگوار گزری اور انہوں نے کہا کہ

ہمارے لڑکے بھی تواسی لڑکے جیسے ہیں اس کو خاص طور پر کیوں ہمارے ساتھ شریک مجلس کیاجاتا ہے تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ علم کے لحاظ سے اسکا جو مقام ہے وہ آپ لوگ جانتے ہیں

Leave a Comment

error: Content is protected !!